جمعہ، 1-دسمبر،2023
جمعہ، 1-دسمبر،2023

زخمیوں کی مسیحائی کرنے والی نرسوں کا آج عالمی دن آج منایا جارہا ہے

نرسنگ کے مقدس پیشے کی بنیاد ایک اطالوی خاتون فلورنس نائیٹ اینجل نے سنہ 1860 میں رکھی۔ فلورنس نے اپنے والدین کی مخالفت اور اس وقت معاشرے میں اس پیشے کو باعزت نہ سمجھنے جانے کے باوجود اس پیشے میں مہارت حاصل کی

نرسوں کا عالمی دن اسی عظیم خاتون کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ان کے یوم پیدائش پر منایا جاتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں لگ بھگ 2 کروڑ نرسیں مختلف اسپتالوں میں اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔
پاکستان میں نرسنگ کے شعبہ کی بنیاد سابق وزیر اعظم پاکستان کی اہلیہ بیگم رعنا لیاقت علی خان نے رکھی تھی جو خود بھی سندھ کی گورنر رہیں۔
اکنامک سروے آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 62 ہزار 651 نرسیں ہیں اور 10 ہزار آبادی کے لیے صرف 5 نرسیں ہیں۔
پاکستان نرسنگ کونسل کے مطابق ملک بھر میں نرسنگ کی بنیادی تربیت کے لیے 162 ادارے قائم ہیں۔ ان اداروں سے سالانہ 1800 سے 2000 رجسٹرڈ خواتین نرسز، 1200 مڈ وائف نرسز اور تقریباً 300 لیڈی ہیلتھ وزٹر میدان عمل میں آتی ہیں۔
نرسنگ کے شعبے میں ڈپلومہ اور ڈگری پروگرام فراہم کرنے والے اداروں کی تعداد صرف 5 ہے۔
ماہرین طب کے مطابق پاکستان میں نرسنگ کا شعبہ بے پناہ مسائل کا شکار ہے۔
نرسوں کے لیے ڈاکٹروں کی طرح ڈیوٹی کی 3 شفٹیں رکھی گئی ہیں جن کا دورانیہ کم و بیش 16 گھنٹے ہوتا ہے اور حادثاتی صورتحال کے پیش نظر نرسوں کو اکثر و بیشتر اوور ٹائم میں بھی کام کرنا پڑتا ہے مگر ان کو اس کی کوئی اجرت نہیں دی جاتی۔
گزشتہ کئی عرصے سے پاکستان کے مختلف صوبوں کی نرسیں اپنے جائز حقوق اور مطالبات کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔
اضافی کام کے بوجھ، قلیل سہولیات، اور دیگر مسائل کے باعث سرکاری اسپتالوں میں زیادہ تر نرسز صرف تجربہ حاصل کرنے کے لیے ملازمت اختیار کرتی ہیں اور جونہی انہیں کسی بہتر جگہ ملازمت دستیاب ہوتی ہے وہ فوراً سرکاری ملازمت چھوڑ کر نجی اداروں یا بیرون ملک کا رخ کرلیتی ہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top