منگل، 5-دسمبر،2023
منگل، 5-دسمبر،2023

پراپڑٹی انویسٹمنٹ کےلیے فائلر کی شرط، ترسیلات زر میں نمایاں کمی کا خدشہ

کراچی: نان فائلرز کی جائیدادوں اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری پر پابندی کے فیصلے پر نظرثانی نہ کرنے کی صورت میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر بری طرح متاثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔
پاکستان ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ فورم کے صدر شعبان الہی نے بتایا کہ ملک آنے والی ترسیلات زر کا40 سے 50 فیصد رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں آتا ہے، خود حکومت کا اندازہ ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستان سالانہ 8 سے 10 ارب ڈالر ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کے لیے بھیجتے ہیں اگر حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں پر اس پابندی کا قابل عمل حل نہ نکالا تووہ سرمایہ کار اس کے لیے دنیا کے دیگر ممالک کا رخ کریں گے اور پاکستان ایک خطیر سرمائے کی آمد سے محروم ہوجائے گا، فی الوقت پاکستان کو اپنے زرمبادلہ کی شدید قلت کابھی سامنا ہے۔
شعبان الہی نے تجویز دی کہ بیرونی ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ٹیکس فائلر کی شرط ختم کرکے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کے لیے نیشنل آئیڈنٹیٹی کارڈ فار اوورسیز پاکستانی (نیکوپ)کو بطور کارآمد دستاویز تصور کیا جانا چاہیے کیونکہ پاکستان میں ٹیکس فائلر کی شرط ان کے لیے دہرے ٹیکسوں کا باعث بنے گی، وہ اپنے میزبان ملکوں میں پہلے ہی ٹیکس ادائیگیوں کے ساتھ گوشوارے جمع کراتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دبئی ترکی اور کینیڈا جیسی معیشتیں سرمایہ کاروں کو ان کے اہل خانہ کے ساتھ مدعو کررہی ہیں اور اگر پاکستان میں سرمایہ کاری کے حالات تبدیل نہ ہوئے تو پاکستانی بھی دنیا کے دیگر ممالک کی ترغیبات سے استفادے کو ترجیح دیں گے، پاکستانی پہلے ہی متحدہ عرب امارت کی پراپرٹ ورئیل اسٹی5 سیکٹر میں سرمایہ کاری کے اعتبار سے سرفہرست ہیں، حال ہی میں دبئی حکومت نے سرمایہ کاروں کو اہل خانہ کے ہمراہ 10 سالہ ویزے کی پیشکش کی ہے، اسی طرح کینیڈا 8 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر اپنے ملک کی شہریت دے رہا ہے۔
واضح رہے کہ سابقہ حکومت نے حالیہ وفاقی بجٹ میں نان ٹیکس ریٹرن فائلرکو 50 لاکھ روپے تک کی پراپرٹی کی خریداری پر پابندی عائد کردی ہے

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top