اسرائیلی وزیراعظم کا وادی اردن کو صیہونی ریاست میں شامل کرنے کا اعلان

وادی اردن

یروشلم : اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے وادی اردن کو اسرائیل میں شامل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی عوام سے الیکشن میں واضح مینڈیٹ مانگ لیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے وادی اردن کو صیہونی ریاست میں شامل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ سرکاری ٹی وی پر قوم سے خطاب میں نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ آج میں اپنے ارادے کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ اگر میں الیکشن جیت گیا تو وادی اردن اور شمالی بحیرہ مردار پر صیہونی اجاراداری قائم کر دوں گا۔

یہ بھی پڑھیں : افغان طالبان نے تخار کے دو اضلاع پر قبضہ کرلیا

نیتن یاہو نے مزید کہا کہ یہ قدم میں الیکشن کے بعد اسی وقت اٹھا سکوں گا، جب اسرائیلی عوام مجھے واضح مینڈیٹ دیں۔

امریکی حکام کا نیتن یاہو کے اعلان سے متعلق کہنا ہے کہ تاحال اس حوالے سے امریکا کی پالیسی میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے، ہم اسرائیلی انتخابات کے بعد امن منصوبہ جاری کریں گے، جس میں خطے میں امن و استحکام کے لیے اقدامات پیش کیے جائیں گے۔

فلسطین کے صدر محمود عباس نے اس حوالے سے کہا کہ اگر نیتن یاہو نے اس قسم کا کوئی فیصلہ اٹھایا تو اسرائیل کے ساتھ تمام معاہدے ختم ہو جائیں گے۔

وزیراعظم محمد شطایہ نے اسرائیلی وزیراعظم کو امن منصوبے میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی ریاست کا اسرائیلی الیکشن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عرب لیگ نے اسرائیلی وزیراعظم کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کے موقع کو ضائع کرے گا۔

سعودی عرب نے اس اعلان کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے فلسطین کے خلاف خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا اور اس حوالے سے اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) کا ہنگامی اجلاس بلانے کا اعلان بھی کیا۔