جی ٹی وی نیٹ ورک
اسلام آباد

اسلام آباد ہائی کورٹ نے زلفی بخاری کی پٹیشن پر فیصلہ سنا دیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے زلفی بخاری کی پٹیشن پر فیصلہ سنا دیا

زلفی بخاری کا نام ای سی ایل پر ڈالنے کی استدعا نیب نے کی تھی جبکہ وزارت داخلہ نے ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی بجائے بلیک لسٹ میں ڈال دیا تھا جس کے خلاف انھوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر عدالت نے جمعے کو فیصلہ سنایا

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے جمعے کو زلفی بخاری کی پٹیشن پر فیصلہ سنایا۔
اس فیصلے کے بعد زلفی بخاری نے ٹویٹ کی: ’آپ سب کے پیار اور محبت کا بہت شکریہ۔ یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آخر کار سچ غالب آ کر رہتا ہے۔ میں سب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں خاص طور پر جنھوں نے سوشل میڈیا پر میری حمایت کی۔ یہ سچ کی جھوٹ پر فتح ہے۔‘
زلفی بخاری کی سعودی عرب روانگی کا معاملہ اس وقت گرم ہوا جب پاکستانی میڈیا میں یہ خبریں چلیں کہ عمران خان نے مبینہ طور پر انھیں اپنے ہمراہ لے جانے کے لیے ان کا نام ای سی ایل سے نکلوایا ہے۔
اس کے بعد سوشل میڈیا پر تحریکِ انصاف کے حامی یہ بحث کرتے نظر آئے کہ زلفی بخاری کا نام تو ای سی ایل میں تھا ہی نہیں بلکہ ان کا نام بلیک لسٹ میں شامل تھا۔
وزارتِ داخلہ کا ایک نوٹیفیکیشن بھی سامنے آیا جسے وزارت کے ایگزٹ کنٹرول سیکشن کی جانب سے جاری کیا گیا تھا تاہم اس میں بھی یہ واضح نہیں تھا کہ یہ نام کس فہرست میں ہے جس کی وجہ سے انھیں چھ دن کی عارضی اجازت دی گئی۔
ایف آئی اے کے ذرائع نےبتایا تھا کہ زلفی بخاری کا نام دراصل بلیک لسٹ میں ہی شامل ہے۔
اس تمام معاملے میں میڈیا ٹاک شوز اور سوشل میڈیا پر جہاں عمران خان پر زلفی بخاری کو ساتھ لے جانے پر کڑی تنقید ہوئی وہیں یہ بحث بھی جاری رہی کہ عمران ایسی صورت حال میں انھیں ساتھ ہی کیوں لے گئے۔
اس سلسلے میں تحریک انصاف کے سیکریٹری اطلاعات فواد چوہدری نےعمران خان اس بات سے لاعلم تھے کہ زلفی بخاری کا نام کسی فہرست میں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ زلفی بخاری کے پاس برطانوی شہریت ہے اس لیے ان کا نام کسی ایسی فہرست میں نہیں ہو سکتا اور غیر ضروری تنازعہ کھڑا کیا گیا۔

متعلقہ خبریں