افغان طالبان نے تخار کے دو اضلاع پر قبضہ کرلیا

افغان

کابل : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکراتی عمل معطل کیے جانے کے بعد افغان میں طالبان کے حملوں میں تیزی آگئی ہے۔ طالبان نے صوبہ تخار کے دو اضلاع پر قبضہ کرلیا ہے۔

افغان حکومت کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھنے والے طالبان نے تاجکستان کی سرحد کے ساتھ واقع دو اضلاع پر قبضہ کرلیا ہے۔ یہ دونوں اضلاع افغان صوبے تخار میں واقع ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : مقبوضہ کشمیر کے کرفیو کو 38 روز گزرگئے، قابض فوج کا پرتشدد رویہ برقرار

تخار صوبائی کونسل کے سربراہ محمد اعظم فضلی کے مطابق طالبان نے ان دونوں اضلاع کا قبضہ افغان سیکیورٹی فورسز کے ساتھ بھرپور جھڑپوں کے بعد حاصل کیا ہے۔

افغان حکام نے دونوں اضلاع پر طالبان کے قبضے کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی وجہ افغان فورسز کی افرادی قوت بتائی ہے۔

دوسری جانب تخار کے گورنر محمد جواد ہجری کا کہنا ہے کہ انہوں نے طالبان کا قبضہ ختم کرنے کیلئے فورسز کو روانہ کردیا ہے۔

واضح رہے کہ چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چن ینگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کی معطلی پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے امریکہ اور طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھائیں اور نتائج کے بارے میں بات کریں تا کہ افغانستان میں امن کا بیج بویا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے فریقین سے افغانستان کے مسئلہ کے حتمی حل کیلئے شرائط تیار کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

امریکہ کی جانب سے طالبان کے نمائندوں سے مذاکرات کی منسوخی کے حالیہ امریکی بیان کے بارے میں انہوں نے نقطہ اٹھایا کہ امریکہ اور طالبان نے مذاکرات میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور وہ امن معاہدے کے لئے اصولوں پر مبنی اتفاق رائے تک پہنچ چکے تھے۔

انہوں نے کہا کہ تاہم اب افغانستان میں امن کے لئے مذاکرات کی حالیہ صورتحال غیریقینی ہے۔ جنگ بندی اور امن و امان افغانستان کے 30لاکھ سے زائد باشندوں کی متفقہ خواہش ہے۔