العزیزیہ ریفرنس : نوازشریف کی اپیل 29 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر

اسلام آباد: احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ریمانڈ سے متعلق پانچ صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے۔ العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کی اپیل 29 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی۔

اس حکم نامے میں عدالت کا کہنا تھا کہ ملزم کے وکیل کی جانب سے جامع اور مدلل دلائل دئے گئے، چونکہ تفتشی افسر نے عدالت سے پہلا ریمانڈ مانگا ہے اور لگائے گئے الزمات پر تفتیش درکار ہے۔ عدالت نواز شریف کو 14 دن کے جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں دیتی ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ نواز شریف کو 25 اکتوبر کو دوبارہ عدالت کے روبرو پیش کیا جائے، نیب انوسٹی گیشن آفیسر آئندہ سماعت پر نواز شریف سے ہونے والی تفتیش سے متعلق عدالت کو آگاہ کریں۔

اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ میں العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کی اپیل 29 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔ رجسٹرارآفس نے کاز لسٹ جاری کردی۔

العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کی اپیل 29 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ نیب کی نواز شریف کی سزا بڑھانے کے لئے اپیل بھی 29 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر کی گئی۔ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی اپیلوں پر سماعت کریں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز دس ماہ بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف کو جیل سے باہر لایا گیا تھا، انہیں چوہدری شوگر مل کیس میں گرفتار کر کے احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔

اس موقع پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ نیب نے جو مجھ سے پوچھا وہ میں نے سب بتایا۔ نیب صرف میرے پاس تفتیش کے لیے ایک مرتبہ آئی۔ میں نیب کے ہر سوال کا جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔ نیب کے لوگ ائے اور گراونڈ اف اریسٹ دی۔ جو الزمات لگائے گئے ہیں، وہ بے بنیاد ہیں۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ 32 انڈسٹریز کے اندر ہمارا نام تھا۔ بتائیں کرپشن کہاں پر ہوئی ہے۔ میں وزیر بھی رہا ہوں، وزیر اعلی بھی رہا ہوں، تین بار وزیر اعظم بھی بنا۔ ان پانچ ادوار بھی ایک دھیلے کی بھی کرپشن اگر یہ ثابت کردیں تو میں کیس سے کیا سیاست سے دستبردار ہو جاؤں گا۔

انہوں نے کہا کہ نیب مشرف نے میرے لیے بنائی تھی۔ مشرف کا ایک ہی ٹارگٹ تھا، نوازشریف، میرے اوپر جھوٹا ہیلی کاپٹر کا کیس بنا دیا۔ نیب صرف اور صرف مسلم لیگ (ن) اور اپوزیشن کے خلاف استعمال ہورہا ہے۔ میں تو پہلے سے جیل میں ہوں، اگر اتنی دشمنی ہے تو بتا دیں۔ میں بہت بعد میں سیاست میں آیا ہوں، اثاثے اس سے بہت پہلے کے ہیں۔