اگر کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کیا گیا تو اثر ساری دنیا پر جائے گا : وزیراعظم

کشمیر کا مسئلہ

مظفر آباد : وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کیا گیا تو اس کا اثر ساری دنیا پر جائے گا۔ نریندر مودی آپ کشمیریوں پر جتنا ظلم کرلیں کامیاب نہیں ہوں گے۔

آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے منعقد جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مجھے پتہ ہے آپ لائن آف کنٹرول کی جانب جانا چاہتے ہیں لیکن ابھی لائن آف کنٹرول کی طرف نہیں جانا جب تک میں آپ کو نہیں بتاؤں گا، میں آپ کو بتاؤں گا کہ کب جانا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پہلے مجھے اقوام متحدہ جانے دیں، دنیا کے رہنماؤں کو بتانے دیں اور کشمیر کا مقدمہ لڑنے دیں، اور انہیں بتانے دیں کہ اگر کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کیا گیا تو اس کا اثر ساری دنیا پر جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے دنیا میں کشمیر کا سفیر بننے کا فیصلہ اس لیے کیا کہ میں پاکستانی ہوں، مسلمان ہوں اور ایک انسان ہوں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ انسانیت کا مسئلہ ہے، 40 روز سے ہمارے کشمیری بھائی، بہنیں، بزرگ اور بچے کرفیو کی زد میں ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ نریندر مودی ایک بزدل انسان ہے، بزدل انسان ایسا ظلم کرتا ہے جو بھارت کی 9 لاکھ فوج آج کشمیریوں پر کررہی ہے، جس میں بھی انسانیت ہوتی ہے وہ کبھی یہ نہیں کرسکتا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایک دلیر انسان کبھی عورتوں اور بچوں پر یہ ظلم نہیں کرسکتا، جو نریندر مودی اور اس کی جماعت آر ایس ایس مقبوضہ وادی میں کررہی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ نریندر مودی آپ کشمیریوں پر جتنا ظلم کرلیں کامیاب نہیں ہوں گے، کیونکہ کشمیر کی عوام میں موت کا خوف ختم ہوچکا ہے، ان کا ڈر چلا گیا ہے، آپ جو مرضی کرلیں انہیں شکست نہیں دے سکتے۔

انہوں نے کہا کہ نریندر مودی بچپن سے آر ایس ایس کا رکن ہے، اس جماعت کے اندر مسلمانوں کی نفرت بھری ہوئی ہے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 100 سال پہلے بننے والی جماعت کے 2 مقاصد تھے کہ بھارت صرف ہندوؤں کے لیے ہے، باقی مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کو برابر شہری نہیں سمھجتے تھے۔

عمران خان نے کہا کہ آر ایس ایس کے دلوں میں مسلمانوں کے لیے نفرت بھری ہوئی ہے کہ اگر مسلمانوں نے یہاں حکومت نہ کی ہوتی تو ہندو قوم نجانے کتنی بڑی سپر پاور ہوتی، ان خیالات کی وجہ سے آر ایس ایس ہمیشہ سے مسلمانوں کے خلاف تھی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں ساری دنیا میں کشمیر کا سفیر بن کر جاؤں گا اور دنیا کو بتاؤں گا کہ آر ایس ایس کی اصلیت کیا ہے، جس طرح ہٹلر اور نازی پارٹی نے جرمنی میں اقلیتوں پر ظلم کیا اور انسانوں کا قتلِ عام کیا یہ بھی اسی راستے پر چل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں جو اعتدال پسند اور روشن خیال لوگ وہ اس نظریے کے خلاف ہیں ان کے لیے وہ بھارت بننے جارہا ہے جو نہ نہرو چاہتا تھا نہ گاندھی بلکہ اسی آر ایس ایس کے ںظریے نے گاندھی کا قتل کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : سب کشمیر کے لیے ایک ہو جاؤ، باقی نیب کو اپنا کام کرنے دو : شیخ رشید

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کشمیر انٹرنیشنلائزڈ ہوگیا ہے، 50 سال بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر پر بات چیت ہوئی۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے بعد پہلی مرتبہ یورپی یونین نے کہا کہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے جس کا مطلب ہے کشمیریوں کو ریفرنڈم کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے گا۔

عمران خان نے کہا کہ پہلی مرتبہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے 58 رکن ممالک نے پاکستان کی تائید کی کہ کشمیر میں ظلم ہورہا ہے کرفیو اٹھایا جائے، اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی ) نے بھی بھارت سے مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھانے کا مطالبہ کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ برطانیہ کی پارلیمنٹ میں 50 ارکان نے پہلی مرتبہ کشمیر پر بات چیت کی اور ہمیں اس وقت سب سے زیادہ خوشی ہوئی جب امریکا میں سینیٹرز نے ڈونلڈ ٹرمپ کو کشمیر میں مداخلت کرنے کے لیے خط لکھا۔

ان سے قبل وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مودی ہمت ہے تو کشمیر سے کرفیو اٹھاؤ اور تماشہ دیکھو۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ آج عمران خان بیرونی دنیا کو تقابلی جائزہ پیش کرنے کے لیے مظفر آباد آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا دیکھ سکتی ہے کہ آج آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں کھلے آسمان تلے کشمیریوں سے پاکستان کا وزیراعظم مخاطب ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں چیلنج کرکے پوچھنا چاہتا ہوں کہ مودی کیا تم مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت میں کشمیریوں سے خطاب کرسکتے ہو؟ اگر جرات ہے، ہمت ہے اور سمجھتے ہو کہ کشمیر کے لوگوں کے لیے کوئی کارنامہ کیا ہے تو مودی کرفیو اٹھاؤ اور تماشہ دیکھو۔

انہوں نے کہا کہ کیا آج آزاد کشمیر میں کوئی سیاسی قیدی دکھائی نہیں دے رہا ہے، مودی تم نے کس قانون کے تحت 4 ہزار کشمیریوں کو کیوں قید کیا ہے؟ انہیں آزادی سے اپنا موقف کیوں پیش کرنے نہیں دیا جارہا؟

وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا سوال کررہی ہے کہ کیا وجہ ہے کہ آزاد کشمیر میں ٹی وی دیکھا جارہا ہے، اخبارات چھپ رہے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں اخبارات تک رسائی نہیں ہے، آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس ہے لیکن مقبوضہ کشمیر میں سروس کیوں بند ہے۔