بارہ اکتوبر یوم سیاہ : پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کرادی گئی

لاہور : بارہ اکتوبر 1999ء کو یوم سیاہ دن کے حوالے سے قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروادی گئی۔ عظمی بخاری نے کہا ہے کہ نوازشریف 20 سال پہلے بھی نہیں جھکا تھا اور آج بھی چٹان کی طرح کھڑا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی ایم پی اے کنول پرویز چودھری کی جانب سے بارہ اکتوبر 1999ء کو یوم سیاہ دن کے حوالے سے قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی ہے۔ قرار داد میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ غیر جمہوری شخص نے آئینی جمہوری حکومت کو پس پشت ڈال کر اقتدار پر قبضہ کرکے آئین معطل کیا تھا۔

قرارداد کے مطابق جمہوریت پر شب خون مارنے کے بعد منتخب وزیر اعظم نوازشریف کو جیل بھجوادیا گیا تھا۔ منتخب شخص کو پابند سلاسل کرنا غیر آئینی اور عوام کے ووٹوں کی حرمت کی پامالی کے مترادف تھا۔

متن میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کا ایوان منتخب آئینی حکومت کو پس پشت ڈالنے اور جمہوریت کے تسلسل کو توڑنے کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔

دوسری طرف مسلم لیگ (ن) پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری نے 12 اکتوبر یوم سیاہ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ 12 اکتوبر 1999 کو ڈکٹیٹر نے جمہوری حکومت کا تختہ الٹایا۔ 1999 میں میاں نواز شریف کو پاکستان کے عوام نے دوتہائی اکثریت سے وزیر اعظم منتخب کیا۔

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جمہوریت پر شب خون مارا۔ میاں نواز شریف 1998 میں بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں ایٹمی دھماکے کرنے کی پلاننگ کررہے تھے۔ دوسری طرف ڈکٹیٹر شپ کو قوم پر مسلط کرنے کی تیاری کی جارہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ میاں نوازشریف نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا اور موٹر وے جیسا تحفہ دیا۔ اس کے جواب میں ایک غاسب ڈکٹیٹر نے پاکستان سے اس کی ترقی چھین لی۔ نوازشریف کا آج بھی ڈکٹیٹر مشرف کی باقیات سے مقابلہ ہے۔ نوازشریف 20 سال پہلے بھی نہیں جھکا تھا اور آج بھی چٹان کی طرح کھڑا ہے۔