برطانوی وزیراعظم کے پارلیمنٹ معطل کرنے کا اقدام غیر آئینی قرار

برطانوی وزیراعظم

لندن : اسکاٹ لیںڈ کی اپیل کورٹ نے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے پارلیمنٹ معطل کرانے کے اقدام کو غیر آئینی قرار دے دیا۔

اسکاٹس اپیل کورٹ کے تین رکنی بینچ نے برطانوی پارلیمنٹ معطلی کے خلاف درخواست پر فیصلہ سنا دیا ہے۔  فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بورس جانسن کا اقدام غیر قانونی تھا۔

یہ بھی پڑھیں : برطانیہ میں عام انتخابات کا کوئی امکان نہیں : برطانوی وزیراعظم

اس سے قبل کیس کی سماعت کے دوران معزز ججز نے ریمارکس دیے تھے کہ بورس جانسن کے پاس پارلیمنٹ معطل کرنے کے اختیارات نہیں ہیں۔

اپوزیشن کے پچھتر اراکین نے مشترکہ طور پر پارلیمنٹ کے خلاف اسکاٹ لینڈ کی اپیل کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ برطانوی حکومت فیصلے کے خلاف اپیل کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

واضح رہے کہ برطانوی حکومت نے پارلیمان کو پانچ ہفتوں کے لیے معطل کردیا تھا۔

وزیراعظم بورس جانسن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم جانسن ایوان زیریں میں پندرہ اکتوبر کو نئے انتخابات کروانے کیلئے رائے شماری کروائیں گے۔ اس مقصد کیلئے حکومت کو دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے۔ اس کارروائی کے بعد پارلیمان آئندہ ماہ کے وسط تک معطل رہے گی۔

وزیراعظم بورس جانسن نے اکتیس اکتوبر تک برطانیہ کو یورپی یونین سے نکالنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ ان کے اس فیصلے کی برطانیہ میں شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

ادھر ملکہ برطانیہ نے دارالامراء میں منظور شدہ ایک بل پر دستخط کردیئے تھے، جس کے تحت کسی ڈیل کے بغیر 31 اکتوبر کو یورپی یونین سے علیحدگی سے برطانوی وزیراعظم کو روک دیا گیا تھا۔ ایوان نے حکومت کی مخالفت کے باوجود گزشتہ ہفتے اس بل کی منظوری دی تھی۔

یاد رہے کہ بورس جانسن ڈیل کے ساتھ یا اس کے بغیر 31 اکتوبر تک یورپی یونین سے نکلنے کا عزم ظاہرکرچکے ہیں۔