جی ٹی وی نیٹ ورک
دنیا

برطانیہ کی پارلیمنٹ کو معطل کرنے پر شدید ردعمل، ہزاروں کی شرکت

برطانیہ

لندن : برطانیہ میں احتجاج کے بعد اور احتجاج، برطانیہ میں کچھ گھنٹوں میں ہزاروں افراد برطانوی پارلیمنٹ کے باہر احتجاجی مظاہرہ میں شامل، احتجاجی مظاہرہ برطانوی پارلیمنٹ کی معطلی کے بعد کیا گیا۔

برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن کے پارلیمان کو معطل کرنے کے فیصلے کے خلاف ارکان پارلیمان اور مہم چلانے والوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

برطانیہ کے دارلحکومت لندن سمیت متعدد شہروں میں ہزاروں افراد نےمظاہرے کیے اور اس اقدام کے خلاف درخواست پر چند گھنٹوں کے دوران دس لاکھ سے زیادہ افراد نے دستخط کیے۔

اس سے قبل ملکہ برطانیہ نے وزیراعظم بورس جانسن کے پارلیمان کو معطل کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی تھی۔ عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد سے بورس جانسن پر بریگزٹ کی نیا پار لگانے کی بھاری ذمے داری آن پڑی ہے۔

برطانوی وزیراعظم اس کو کس طرح سنبھالتے ہیں یہ کہنا قبل ازوقت ہے۔ برطانوی ملکہ سے پارلیمنٹ معطل کرانے کے فیصلے سے یہی ظاہرہوتا ہے کہ وہ معاملہ پارلیمنٹ سے بالا ہی حل کرنے چاہتے ہیں۔  کیوں کہ وہ اپنے پہلے آنے والے چار وزرائے اعظم کا حال دیکھ چکے ہیں، جو بریگزٹ مسئلہ حل کراتے کراتے تاریخ کے گوشوں میں گم ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم نے یورپی یونین سے علیحدگی (بریگزٹ) کے معاملے پر وزیراعظم بورس جونس کی سفارش پر پارلیمنٹ معطل کرنے کی منظوری دے دی۔ جس کے بعد برطانوی پارلیمان پہلی بار معطل ہوگئی۔

ہائوس آف کامن کے اسپیکر نے آئینی ظلم قرار دیدیا ہے، برطانوی پارلیمنٹ ستمبر کے دوسرے ہفتے میں معطل کردی جائے گی۔علاوہ ازیں 5 ہفتوں بعد ملکہ الزبتھ دوم 14 اکتوبر کو تقریر کریں گی۔

دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم بورس جونس نے پارلیمنٹ سے متعلق کہا کہ معطلی کا فیصلہ ضروری تھا، کیونکہ ان کی حکومت کو آئندہ کا ’لائحہ عمل‘ تیار کرنا ہےاور اس کے بعد بھی بحث کیلئے کافی وقت ہوگا.

مزید پڑھیں : برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے مستغفیٰ ہونے کا اعلان کردیا

اپوزیشن نے وزیر اعظم بورس جانسن کے اقدام پر شدید تنقید کی ہے، ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی حکومت کے اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے جانسن کیلئے عظیم (great) کا لفظ کہا.

اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ خاص طور پر حقائق کی روشنی میں بورس نے وہی کیا جو کرنا چاہیے تھا اور وہ اچھے ثابت ہوں گے.

یاد رہے کہ بورس جانسن نے ملکہ برطانیہ سے درخواست کی تھی کہ پارلیمان کو ستمبر کے وسط سے معطل کر دیا جائے۔ اس اقدام کا مقصد برطانوی قانون سازوں کو روکنا ہے تاکہ یورپی یونین سے معاہدے کے بغیر برطانیہ کی علیحدگی کو یقینی بنایا جاسکے۔

بورس جونسن نے قانون سازوں کو ایک خط میں بتایا تھا کہ وہ ملکہ سے یہ درخواست کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں کہ ملکہ 14 اکتوبر کو اپنی تقریر میں حکومت کی قانون سازی کا ایجنڈا بھی شامل کریں۔

متعلقہ خبریں