جی ٹی وی نیٹ ورک
بلوچستان

بلوچستان میں سیاسی سرگرمیاں ماند پڑ گئیں سیاسی اجتماعات کی جگہ تعزیتی اجتماعات نے لے لی

بلوچستان میں  سیاسی سرگرمیاں ماند پڑ گئیں سیاسی اجتماعات کی جگہ تعزیتی اجتماعات نے لے لی

بلوچستان کے علاقے مستونگ میں خودکش حملے کے بعد سیاسی سرگرمیاں ماند پڑ گئیں ہیں اور سیاسی اجتماعات کی جگہ تعزیتی اجتماعات نے لے لی ہے۔

جمعہ 13 جولائی کو ہونے والے حملے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار سراج رئیسانی سمیت 149 افراد ہلاک ہوئے اور دھماکے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔

مستونگ گذشتہ ایک دہائی سے شدت پسندی کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔ پچھلے سال یہاں جے یو آئی سے وابستہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا غفور حیدری پر حملہ کیا گیا اور اسی علاقے میں ہزارہ کمیونٹی بھی مسلسل نشانہ بنتی رہی ہے۔

پاکستانی فورسز نےگذشتہ سال ہی یہاں آپریشن میں داعش کا نیٹ ورک ختم کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور اس کارروائی میں داعش سندھ اور بلوچستان کے سربراہ غلام مصطفیٰ مزاری سات دیگر ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے تھے۔

بلوچستان میں اس وقت سیاسی جماعتیں مذہبی شدت پسندوں اور بلوچ عسکریت پسندوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ انتخابات سے قبل ان کا بنیادی ہدف سرکاری تنصیبات اور فورسز تھیں۔

بلوچ عسکریت پسند تنظیمیں سراج رئیسانی کو اپنے خلاف ہونے والی کارروائیوں میں شریک قرار دیتی رہی ہیں۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما جام کمال کہتے ہیں کہ سراج رئیسانی بڑے محب وطن تھے۔

وہ جذباتی پاکستانی تھے۔ انھوں نے انڈیا کے خلاف اور بہت ساری چیزوں کے بارے میں کھل کر اپنے موقف کا بیان کیا تھا وہ عنصر اس میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔’

سراج رئیسانی کا مقابلہ اپنے ہی بھائی، سابق وزیر اعلیٰ اسلم رئیسانی سے تھا۔ ان کے دوسرے بھائی حاجی لشکری رئیسانی اس حملے کو خارجہ پالیسی سے جوڑتے ہیں۔

متعلقہ خبریں