جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

تیزگام ایکسپریس میں آتشزدگی کے باعث 74 سے زائد افراد جاں بحق

تیزگام

رحیم یار خان : کراچی سے لاہور جانے والی تیزگام ایکسپریس کی تین بوگیوں میں آگ لگنے سے 74 سے زائد افراد جاں بحق، متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

کراچی سے لاہور جانے والی بدقسمت تیزگام ایکسپریس رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور کے چنی گوٹھ کے نزدیک چک نمبر 6 کے تانوری اسٹیشن پر روانگی کے چند منٹ بعد ہی صبح 6:15 منٹ پر شعلوں کی لپیٹ میں آگئی۔ جس کے باعث 74 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے۔

ہوا کے باعث شدت سے پھیلنے والی آگ نے تیزی سے دوسری بوگیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ بوگیوں میں زیادہ تر مرد حضرات سوار تھے، جن کے پاس کھانا بنانے کے لیے سلنڈر بھی موجود تھا۔

سلنڈر پھٹنے سے ٹرین میں دھماکا ہوا، جس کے آواز سن کر دیگر مسافر تخریب کاری سمجھ کر چلتی ہوئی ٹرین سے کود گئے، جس کے باعث خواتین سمیت کئی مسافر شدید زخمی ہوئے۔

رائیونڈ اجتماع میں شرکت کے لیے متاثرہ بوگیوں میں سوار مسافروں نے 2 بوگیاں خصوصی طور پر بک کروائی تھیں۔

حادثے کے فوری بعد زخمیوں کو مقامی افراد کی مدد سے قریبی شیخ زید اسپتال، بہاولپور وکٹوریہ اسپتال اور ملتان کے اٹالین برن یونٹ منتقل کیا گیا، جبکہ ضلع بھر کے دیگر اسپتالوں میں بھی ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

پاک فوج کے دستے اور آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر حادثے کے مقام پر پہنچ گیا، جہاں ہیلی کاپٹر کے ذریعے زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔

پاک فوج کے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے زخمیوں کی امداد کی اور فوج کے جوانوں نے سول انتظامیہ سے مل کر امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

لیاقت پور حادثہ کے بعد لاہور جانے والی ٹرینوں کو مختلف سٹیشنز پر روک دیا گیا تھا۔

وزیر ریلوے شیخ رشید سانحہ تیزگام ٹرین میں زخمی ہونے والے مریضوں کی عیادت کیلئے شیخ زید اسپتال رحیم یار خان پہنچے جہاں انہوں نے زخمیوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔ وزیر ریلوے نے ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے پر پاک فوج کا شکریہ ادا کیا۔

واقعے کے بعد ابتدائی بیانات میں وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ بطور وزیر ریلوے سانحہ رحیم یا ر خان کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں، مگر یہ واقعہ انسانی غلطی اور کوتاہی کا نتیجہ ہے۔ ٹرین کی بوگی میں سلنڈر کا پہنچنا ریلوے کی نااہلی ہے۔ واقعے کے ذمہ داروں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔

ویڈیو پیغام میں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ تبلیغی جماعت کے امیر نے دو کوچیں بک کی تھیں، امیر حادثے میں محفوظ ہیں، بوگیوں میں حیدر آباد، محراب پور اور نوابشاہ سے سواریاں بیٹھیں، دو سلنڈر اور ایک چولھا پھٹ جانے کی وجہ سے 62 مسافر شہید اور 33 زخمی ہیں۔

وزیر ریلوے نے لیاقت پور ٹرین حادثے میں جاں بحق و زخمی افراد کی مالی امداد کا اعلان بھی کردیا ہے۔ جاں بحق افراد کے لواحقین کو پندرہ لاکھ روپے اور زخمیوں کو تین سے پانچ لاکھ روپے کی امداد دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ٹرین کی بوگی میں سلنڈر کا پہنچنا ریلوے کی نااہلی ہے۔ واقعے کے ذمہ داروں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ چھوٹے اسٹیشنوں پر اسکینر کی سہولت نہیں ہے۔ اس حادثے کا بہت افسوس ہے۔ جلد ریلوے قوانین میں تبدیلیاں لائی جائیں گی، امید ہے شہری بھی محکمہ ریلوے سے تعاون کریں گے۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے آج ہونے والی تمام میٹنگز منسوخ کردیں۔ وزیراعلیٰ رحیم یار خان پہنچے، جہاں انہوں نے حادثہ کے مقام کا دورہ اور زخمی مسافروں کی عیادت کی۔

وزیراعلیٰ نے اپنا ہیلی کاپٹر بھی امدادی سرگرمیوں کیلئے مختص کیا۔

وزیراعلیٰ نے کمشنر بہاولپور، ڈپٹی کمشنرز رحیم یار خان و بہاولپور، آر پی او بہاولپور اور ڈی پی اوز رحیم یار خان و بہاولپور کو امدادی سرگرمیوں کی ذاتی طور پر نگرانی کی ہدایت بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ زخمی مسافروں کے علاج معالجے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔

سول اسپتال کراچی کے برنس سینٹر کے عملے کو الرٹ کردیا گیا ہے۔ ایم ایس سول اسپتال ڈاکٹر خادم کے مطابق زخمیوں کے کراچی آنے کی صورت میں ہر ممکن علاج فراہم کیا جائے گا۔ ابتدائی طور پر 25 بیڈز مختص کردئیے گئے ہیں۔

گرینڈ ہیلتھ الائنس ملتان سانحے کی وجہ سے برن یونٹ میں ہڑتال کی کال واپس لینے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انتظامیہ کو اضافی ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف درکار ہے تو ہم کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

صدر مملکت عارف علوی، وزیر اعظم عمران خان، بلاول بھٹو، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار و دیگر نے ٹرین حادثے میں جاں بحق افراد کے لیئے دعا اور افسوس کا اظہار کیا۔

متعلقہ خبریں