جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف حکومتی ریفرنس کے خلاف سپریم کورٹ بار کی درخواست

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف حکومتی ریفرنس کا معاملے پر صدر سپریم کورٹ بار نے اعلیٰ عدلیہ میں درخواست دائر کردی ہے۔

 سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس پر سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی۔ صدر سپریم کورٹ بار امان اللہ کنرانی نے درخواست میں وفاق، سپریم جوڈیشل کونسل اور صدر مملکت کو فریق بنایا ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ بار نے عدلیہ کی آزادی کو مضبوط اور قانون کی حکمرانی کے لیے ہمیشہ کردار ادا کیا ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف دو ریفرنس زیر التواء ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریفرنس کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے.

درخواست کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنسز بدنیتی پر مبنی ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنسز منظم کوشش کے تحت دیدہ نا دیدہ حلقوں نے دائر کیے ہیں. ریفرنسز پر کارروائی عمومی شفافیت کے بر عکس ہے.  جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کو فیض آباد دهرنہ فیصلہ کے متاثرین کی حمایت حاصل ہے.

صدر سپریم کورٹ بار نے درخواست میں کہا ہے کہ فیض آباد دهرنا کیس فیصلہ سے کئی ادارے خود کو متاثرہ سمجهتے ہیں. جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو قوائد کے برعکس شوکاز نوٹس جاری کیے گئے. جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو آرٹیکل 10 اے کے تحت شفاف ٹرائل کا حق حاصل ہے.

امان اللہ کنرانی نے درخواست میں کہنا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جاری کیے گئے شوکاز نوٹس انکم ٹیکس قانون کی خلاف ورزی ہے. محض الزمات کو ثابت شدہ حقائق تسلیم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ انکم ٹیکس قانون کی کسی خلاف ورزی پر سپریم جوڈیشل کونسل مس کنڈیکٹ کی کاروائی نہیں کر سکتی ہے۔  

درخواست کے مزید مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت کو خط لکھ کر آزادی رائے کے اظہار کا حق استعمال کیا. اپنے حق کے استعال پر کسی کے خلاف مس کنڈیکٹ کی کارروائی نہیں ہو سکتی ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس انکم ٹیکس قانون سے متعلق سوالات کا اختیار نہیں ہے۔  

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر ریفرنسز کو کالعدم قرار دیا جائے. سپریم جوڈیشل کونسل کی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کارروائی کو بهی کالعدم قرار دیا جائے. سپریم جوڈیشل کونسل کو اپنی کارروائی شفاف بنانے کے لیے قوائد میں ترمیم کرنے کا حکم دیا جائے.