جی ٹی وی نیٹ ورک
اسلام آباد

رضا ربانی نے حکام الیکشن کمیشن کو سینیٹ میں طلب کرنے کا مطالبہ کردیا

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ عام انتخابات وقت سے قبل ہی متنازع ہو چکے ہیں جس کی وجہ ان میں مداخلت اور الیکشن کمیشن کے آئینی کردار میں ناکامی ہے

پرویز مشرف ملک میں واپس نہیں آئے اس لیے اس فیصلے کو واپس لے لیا گیا۔
پولنگ کا وقت بڑھانے کے معاملے پر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ایک جماعت کے کہنے پر کس طرح پولنگ کا وقت بڑھا دیا گیا؟
میاں رضا ربانی نے الیکشن کمیشن کے حکام کو بریفنگ کے لیے سینیٹ میں طلب کرنے کا بھی مطالبہ کردیا۔ رضا ربانی نے حکام الیکشن کمیشن کو سینیٹ میں طلب کرنے کا مطالبہ کردیا۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات میں فوج کی تعیناتی اور انہیں اختیارات دینا ایک اہم معاملہ ہے، تاہم الیکشن کمیشن فوج کو دیے گئے اختیارات سے متعلق ایوانِ بالا کو اعتماد میں لے۔
سابق چیئرمین سینیٹ کا کہنا ہے کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے انتخابات میں مداخلت سے متعلق بیان دیا اور پھر اسے واپس لے لیا لہٰذا یہ جاننا ضروری ہے کہ انہوں نے اپنا بیان واپس کیوں لیا۔
میاں رضا ربانی کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں پر انتخابات سے دستبردار ہونے یا پھر سیاسی جماعت تبدیل کرنے پر دباؤ ڈالا جارہا ہے جس پر پارٹی کو تشویش ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ نگراں حکومت کہاں ہے اور کیا کر رہی ہے، اور ان کے وزیر آکر بتائیں کہ ان کے انتخابی امیدواروں پر دباؤ کیوں ڈالا جارہا ہے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیب کو صرف 2 جماعتیں نظر آ رہی ہیں، جبکہ اسے تیسری جماعت نظر نہیں آ رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جو لوٹے وفاداری تبدیل کر کے دوسری پارٹی میں گئے کیا وہ پاک ہوگئے ہیں؟ ان کا احتساب کیوں نہیں کیا جارہا؟

متعلقہ خبریں