جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

سانحہ لیاقت پور : جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت کاعمل جاری

رحیم یار خان : لیاقت پور تیز گام ٹرین حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت کاعمل جاری، نمونے حاصل کرنے کے لئے کیمپ قائم، 48 ورثاء کے خون کے نمونے لے لیئے گئے۔

لیاقت پور تیز گام ٹرین حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت کاعمل جاری ہے۔ اسپتال انتظامیہ نے ورثاء کے نمونے حاصل کرنے کے لئے کیمپ قائم کردیا ہے۔

شیخ زید اسپتال انتظامیہ کے مطابق 57 ناقابل شناخت نعشوں کے نمونے ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے فرانزک لیباٹری بھیج دیئے گئے ہیں۔ اب تک 48 ورثاء کے خون کے نمونے لیئے گئے ہیں۔ باقی ورثاء سے نمونے لینے کا عمل جاری ہے۔

پنجاب فرانزک سائنس لیباٹری کی ٹیمیں ورثاء کے نمونے لے رہی ہیں۔

یاد رہے کہ کراچی سے لاہور جانے والی بدقسمت تیزگام ایکسپریس رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور کے چنی گوٹھ کے نزدیک چک نمبر 6 کے تانوری اسٹیشن پر روانگی کے چند منٹ بعد ہی صبح 6:15 منٹ پر شعلوں کی لپیٹ میں آگئی۔ جس کے باعث 74 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے۔

ہوا کے باعث شدت سے پھیلنے والی آگ نے تیزی سے دوسری بوگیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ بوگیوں میں زیادہ تر مرد حضرات سوار تھے، جن کے پاس کھانا بنانے کے لیے سلنڈر بھی موجود تھا۔

سلنڈر پھٹنے سے ٹرین میں دھماکا ہوا، جس کے آواز سن کر دیگر مسافر تخریب کاری سمجھ کر چلتی ہوئی ٹرین سے کود گئے، جس کے باعث خواتین سمیت کئی مسافر شدید زخمی ہوئے۔

رائیونڈ اجتماع میں شرکت کے لیے متاثرہ بوگیوں میں سوار مسافروں نے 2 بوگیاں خصوصی طور پر بک کروائی تھیں۔

حادثے کے فوری بعد زخمیوں کو مقامی افراد کی مدد سے قریبی شیخ زید اسپتال، بہاولپور وکٹوریہ اسپتال اور ملتان کے اٹالین برن یونٹ منتقل کیا گیا، جبکہ ضلع بھر کے دیگر اسپتالوں میں بھی ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

پاک فوج کے دستے اور آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر حادثے کے مقام پر پہنچ گیا، جہاں ہیلی کاپٹر کے ذریعے زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔

پاک فوج کے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے زخمیوں کی امداد کی اور فوج کے جوانوں نے سول انتظامیہ سے مل کر امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

لیاقت پور حادثہ کے بعد لاہور جانے والی ٹرینوں کو مختلف سٹیشنز پر روک دیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں