سیٹیزن پورٹل پر شکایات کے ازالے سے متعلق احتساب کا آغاز

اسلام آباد: وزیر اعظم سیٹیزن پورٹل پر شکایات کے ازالے سے متعلق احتساب شروع ہو گیا۔ وزیراعظم نے شہریوں کی شکایات کا حل مجاز افسران کے حتمی فیصلہ سے مشروط کردیا ہے۔

وزیر اعظم آفس کو غیر مجاز اہلکاروں کی شہریوں کی شکایات کو بغیر حل نمٹانے کی شکایات موصول ہوئیں ہیں۔ وزیر اعظم نے شہریوں کی شکایات کا حل مجاز افسران کے حتمی فیصلہ سے مشروط کر دیا۔

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ماتحت افسران شہری کی شکایت کو بغیر نتیجہ نمٹا نہیں سکتا ہے۔ کوئی بھی شکایات نمٹانے سے قبل مجاز افسر کی اجازت ضروری ہو گی۔ شہریوں کی شکایات کے حل میں کسی قسم کی کوتاہی قابل قبول نہیں ہے۔

وزیر اعظم نے ہدایت دی کہ شہریوں کی شکایات کو حل یا ختم کرنے کا فیصلہ مجاز افسر ہی کرے گا۔

عمران خان کی ہدایات کے بعد وزیر اعظم آفس نے تمام وفاقی اور صوبائی اداروں کو خط لکھ دیا۔ خط میں وزیر اعظم آفس کا کہنا تھا کہ شہری کی شکایات سے متعلق غلط بیانی یا کوتاہی کا ذمہ دار ادارے کا مجاز افسر ہو گا۔ غیر مجاز افسران کی شہریوں کی شکایات کے حل کی رپورٹ بدنیتی اور غفلت تصور ہو گی۔

واضح رہے کہ رواں سال جون میں شہریوں کی شکایات مقررہ وقت پر حل نہ کرنے پر وزیراعظم آفس ایف آئی اے پر برہم ہوگیا تھا، وزیراعظم آفس نے ڈی جی ایف آئی اے سے وضاحت بھی طلب کی تھی۔

سیکرٹری وزیراعظم نے ڈی جی ایف آئی اے کے خط لکھا تھا جس میں شہریوں کی شکایات کو بروقت حل نے کرنے پر ناراضگی کا اظہار کیا گیا۔

خط کے مطابق تھرپاکر کے شہری عبدالغنی کی شکایت پر 19 دسمبر 2018 کو ایف آئی اے کو انکوائری کی ہدایت کی تھی، 3 ماہ میں مکمل ہونے والی انکوائری 5 مہینے گزرنے کے باوجود مکمل نہ ہو سکی۔

3 مارچ کو مقبوضہ کشمیر کے شہری نے بینکنگ ٹرانزیکشنز کی ای میلز کے حوالے سے شکایت کی، کشمیری شہری کی شکایت پر ایف آئی اے نے تاحال کوئی رپورٹ پیش نہیں کی۔

اس سے قبل بھی ایف آئی اے حکام سے شہریوں کی شکایات کے حل سے متعلق جھوٹی رپورٹ پر وضاحت مانگی گئی تھی۔