شازیہ خشک نے موسیقی چھوڑنے کا اعلان کردیا

ملک کی نامور کلاسیکل گلوکارہ شازیہ خشک نے موسیقی کو خیرباد کہہ کر اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کا اعلان کردیا۔

تاہم اب انہوں نے اچانک موسیقی کو خیرباد کہہ مداحوں کو حیران کردیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق شازیہ خشک نے موسیقی کو چھوڑ کر اسلامی تعلیمات کے مطابق بقیہ زندگی گزارنے کا اعلان کردیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اداکارہ نے اپنی مرضی کے مطابق موسیقی کو چھوڑنے کا فیصلہ کرکے اسلام کی خدمت کرنے کا اعلان کیا۔

گلوکارہ کا کہنا تھا کہ انہیں اب بھی بیرون ممالک سے میوزک کنسرٹ کرنے کی پیش کش موصول ہو رہی ہیں، تاہم اب وہ مزید موسیقی کی دنیا میں رہنا نہیں چاہتیں اور اب وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزاریں گی۔

شازیہ خشک کا کہنا تھا کہ وہ نہ صرف اسلامی تعلیمات کے تحت زندگی گزارنے کی کوشش کریں گی بلکہ وہ اسلامی تعلیمات کی ترویج بھی کریں گی۔

شازیہ خشک نے 1984 میں گلوکاری کی شروعات کی تھی، انہوں نے پہلی بار سندھ کے شہر جامشورو میں واقع ’سندھ یونیورسٹی‘ میں منعقد ایک کانفرنس میں اپنی آواز کا جادو جگایا تھا۔

انہوں نے موسیقی کی باقاعدہ تربیت نہیں لی تھی اور بطور گلوکارہ کا 1992 میں پاکستان ٹیلی وژن سے کیریئر کا آغاز کیا۔

گلوکاری شروع کرنے سے قبل ہی سندھ یونیورسٹی کے پروفیسر ابراہیم خشک سے شادی کرلی تھی اور ان کی فرمائش پر ہی انہوں نے موسیقی کو پیشے کے طور پر اختیار کیا۔

شازیہ خشک جامشورو میں ہی محکمہ تعلیم میں ملازمت کرنے والے ایک سرکاری افسر کے گھر میں پیدا ہوئیں اور انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے ایم اے اردو کی تعلیم حاصل کی۔

شازیہ خشک کی مادری زبان کشمیری تھی تاہم جامشورو میں جنم لینے، وہاں پلنے اور بڑے ہونے کی وجہ سے انہیں سندھی زبان پر عبور حاصل تھا۔

انہوں نے سندھی، اردو، بلوچی، کشمیری، ڈھاٹکی، تھری، پنجابی اور کشمیری سمیت ملک کی دیگر زبانوں میں گیت گائے اور گزشتہ 25 سال سے موسیقی کی دنیا میں راج کرتی رہیں۔

شازیہ خشک نے پنجابی اور اردو زبان کے بھی متعدد معروف گیت گائے اور انہوں نے تقریباً 12 میوزک البم جاری کیے۔