جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

صدر مملکت جمعے کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے

صدر مملکت

اسلام آباد : صدر مملکت جمعے کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے خطاب کے حوالے سے تمام انتظامات کو حتمی شکل دیدی ہے۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ترجمان کے مطابق پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے صدر مملکت کا خطاب جمعہ کو شام 5 بجے ہوگا، جس سے موجودہ قومی اسمبلی کے دوسرے پارلیمانی سال کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے خطاب کے حوالے سے تمام انتظامات کو حتمی شکل دیدی ہے۔ آئینی اداروں کے سربراہان، تین مسلح افواج کے سربراہوں، سفارتکاروں، سمیت اہم شخصیات کو دعوت نامے بھی ارسال کردیئے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں : کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ صرف کشمیریوں کو کرنا ہے،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی

سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے تمام ارکان پارلیمنٹ اور وفاقی وزرا کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ہمراہ کسی مہمان کو نہ لائیں اور نہ ہی کسی رکن پارلیمنٹ یا وفاقی وزیر کے گارڈز کو پارلیمنٹ کی حدود میں داخلے کی اجازت ہوگی۔

اجلاس کے موقع ہر تمام ارکان پارلیمنٹ سمیت مہمانوں کی گاڑیوں کی سخت چیکنگ کی جائے گی، پارلیمنٹ میں تمام معزز مہمانوں، ارکان پارلیمنٹ اور ڈیوٹی پر موجود عملے کیلئے پارکنگ مختص کردی گئی ہے۔

واضح رہے کہ آئین کے آرٹیکل 54 کے تحت ہر پارلیمانی سال صدر مملکت مشترکہ اجلاس سے خطاب سے ہوتا ہے، صدر مملکت سینیٹ اور قومی اسمبلی کو پورے پارلیمانی سال کیلئے اپنے خطاب کے ذریعہ رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ ایوان صدر میں خالد محمود کی قیادت میں برطانوی پارلیمانی وفد نے صدر عارف علوی سے ملاقات کی تھی۔ اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور چیئرمین پارلیمانی کشمیر کمیٹی سید فخر امام بھی موجود تھے۔

صدر مملکت

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ کشمیر میں بھارت کے فاشسٹ اور یکطرفہ اقدامات نے علاقائی اور عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے برطانوی وفد کو بتایا کہ بھارتی افواج کے مظلوم کشمیریوں پر ظلم و تشدد نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے، آج بھارت میں اقلیتیں غیر محفوظ ہیں۔

ڈاکٹر عارف علوی نے مزید کہنا تھا کہ جنونی ہندو پرست بھارتی قیادت نے ثابت کر دیا ہے کہ اس نےصرف جمہوریت کا لبادہ اوڑھ رکھاہے، عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارتی بربریت کا نوٹس لے۔

صدر مملکت نے وفد پر زور دیا کہ وہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق برطانوی عوام اور پارلیمان کے دوسرے ممبران کو آگاہ کرے۔

برطانوی وفد نے اسپیکر اور چیئرمین کشمیر کمیٹی کا دورہ پاکستان منعقد کرانے کے لیے شکریہ ادا کیا، جس سے انہیں مقبوضہ کمشیر کی درست صورتحال جاننے کا موقع ملا۔

متعلقہ خبریں