جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

فضل الرحمن کے ہوتے ہوئے یہودیوں کو سازش کی کیا ضرورت : عمران خان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فضل الرحمن کے ہوتے ہوئے یہودیوں کو سازش کی کیا ضرورت ہے، ہندوستانی میڈیا آزادی مارچ ایسے دکھا رہا ہے جیسے فضل الرحمن بھارتی شہری ہے۔

گلگت میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آج ہم یہاں گلگت بلتستان کے یومِ آزادی کا جشن منارہے ہیں اور ایک آزادی مارچ اسلام آباد میں ہورہا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اسلام آباد میں کس سے آزادی لینے آرہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد میں جے یو آئی (ف) کے آزادی مارچ میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہیں، میڈیا جا کر مظاہرین سے پوچھے وہ کس سے آزادی لینے آئے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر پی پی پی والوں سے پوچھیں گے تو مہنگائی کی بات کریں گے، ن لیگ والوں کو پتہ ہی نہیں ہوگا کہ وہ مارچ میں کیوں ہیں، جے یو آئی والے کہیں گے یہودی اسلام آباد پر قبضہ کر رہے ہیں۔ فضل الرحمن کے ہوتے ہوئے یہودیوں کو سازش کی کیا ضرورت ہے، ہندوستان سمیت ملک کے سارے دشمن فضل الرحمن کے آزادی مارچ سے خوش ہیں، ہندوستانی میڈیا آزادی مارچ دکھا رہا ہے، ایسا لگ رہا ہے جیسے فضل الرحمن بھارتی شہری ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ فضل الرحمان اسلام کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں لیکن انہیں ڈیزل کا پرمٹ دو فضل الرحمان کا اسلام مٹ جاتا ہے، یہ لوگ اسلام کو نقصان پہنچا رہے ہیں، فضل الرحمن کو دیکھ کر اسلام کی طرف کوئی نہیں آئے گا بلکہ اسلام کو چھوڑ دے گا۔ بلاول بھی لبرل کا لیبل لگا کرمارچ میں شرکت کرنےآیا ہے، بلوچستان سے اچکزئی بھی آگئے ہیں، اچکزئی توجے یوآئی کی مخالفت کرتا رہا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ وہ دن چلے گئے جب یہ اقتدار لینے کے لیے مذہب کو استعمال کرتے تھے یہ نیا پاکستان بن چکا ہے اس لیے اب سب بے روزگار اکٹھے ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ میں جتنے دن مرضی بیٹھنا ہے بیٹھیں، کھانا ختم ہوجائے گا تو وہ بھی دیں گے لیکن این آر او نہیں دیں گے، باری سب کی آئے گی، دنیا ادھر ادھر ہوجائے میں انہیں جیلوں میں ڈالوں گا، ان لوگوں نے 6 ارب کا قرض 30 ارب ڈالر پرپہنچا دیا، قرض کا پیسہ ان کی جیبوں میں گیا، منی لانڈرنگ کے ذریعے پیسہ باہر بھیجا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ سب کے جمع ہونے کی اصل بات یہ ہے کہ ان کے کرپشن کے کیسز ہمارے سامنے آچکے ہیں، اس ملک میں جس سطح کی کرپشن ہوئی سب کو ڈر لگا ہوا کہ سب کی باری آجانی ہے۔ جس جس نے اس ملک پر 10 سالوں میں 4 گنا زیادہ قرضہ چڑھایا ہے ان سب کی باری آئے گی۔

متعلقہ خبریں