مقبوضہ کشمیر کے کرفیو کو 38 روز گزرگئے، قابض فوج کا پرتشدد رویہ برقرار

برقرار

سری نگر : مقبوضہ کشمیر کو جیل بنے اڑتیس روز گزرگئے، عوام بدستور مشکلات کا شکار ہیں۔ کشمیر میں مواصلاتی نظام کی معطلی بھی برقرار ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں آج مسلسل 38 ویں روز بھی کرفیو برقرار ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران بھارتی فورسز نے یوم عاشور کے دوران وادی میں نکالنے جانے والے جلوسوں پر پیلٹ گنز اور شیلنگ کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد کشمیری عزادار زخمی ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں : کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیئے وزیراعظم کا مظفرآباد میں بڑے جلسے کا اعلان

مقبوضہ وادی میں مواصلات کا نظام اب بھی معطل ہے، قابض انتظامیہ نے ٹیلی فون سروس بند برقرار کررکھی ہے، جبکہ ذرائع ابلاغ پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مواصلاتی نظام کی معطلی، مسلسل کرفیو اور سخت پابندیوں کے باعث لوگوں کو بچوں کے لیے دودھ، زندگی بچانے والی ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 80 لاکھ کشمیریوں کے لیے ذرائع مواصلات 5 اگست سے بند ہیں، دنیا کو جاننے کی ضرورت ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں کیا ہو رہا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کوانسانیت کو مقدم رکھنے کی ضرورت ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی بربریت پر دنیا بھر سے آوازیں اٹھنا شروع ہوگئیں ہیں۔ قابض بھارتی فوج یوم عاشور کے موقع پر بھی ظلم و بربریت سے باز نہ آئی۔

عاشورہ کے روز بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر کو کربلا اورخود یزیدی فوج کا کردار ادا کرتے رہے۔ مظلوم کشمیریوں پرشیلنگ کی گئی علم اور امام بارگاہوں کے دروازے توڑ دیئے گئے۔

بھارتی صحافی نیانیما باسو کہتی ہیں کہ بھارت کشمیریوں کے ساتھ زیادتی کررہا ہے، کوئی وجہ ہی نہیں کہ ایک ماہ سے زائدعرصہ گزرجانے کے باوجود کشمیر کو بند رکھا جائے اور جیل بنا دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جنیوا کنونشن کےاجلاس میں بھی یہ ہی بات کی گئی کہ بھارت کشمیر میں کھل کرانسانی جانوں سے کھیل رہا ہے۔

امریکی کانگریس کی خاتون رکن ’جوڈی چُو‘ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی پیغام میں بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری کوفیو ختم کرے، ذرائع مواصلات پر لگی پابندیوں کو ہٹایا جائے اور نظربند رہنماؤں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔