مریم نواز نے رہائی کے لیئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی

لاہور : مریم نواز نے لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت پر رہائی کی درخواست کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ منی لانڈرنگ کا بے بنیاد کیس بنا کر سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت کی درخواست دائر کردی ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ملک کے تین بار منتخب ہونے والے وزیراعظم کی بیٹی ہوں۔ نواز شریف نے ملکی ترقی کیلئے متعدد اقدامات کئے۔ منی لانڈرنگ کا بے بنیاد کیس بنا کر سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

درخواست میں مریم نواز کا مؤقف ہے کہ نیب کے قانون کا غلط استعمال کر کے گرفتار کیا گیا ہے۔ پانامہ لیکس کیس میں تمام جائیدادیں اور اثاثے ڈکلیئر کر رکھے ہیں۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ضمانت پر رہائی کی درخواست کے حتمی فیصلے تک عبوری ضمانت پر رہا کیا جائے۔ چودھری شوگر ملز ریفرنس اور منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت منظور کی جائے۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت کے دوران جنوری 2018 میں مالی امور کی نگرانی کرنے والے شعبے نے منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت چوہدری شوگر ملز کی بھاری مشتبہ ٹرانزیکشنز کے حوالے سے نیب کو آگاہ کیا تھا۔

بعدازاں اکتوبر 2018 میں نیب کی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف اور ان کے بھائی عباس شریف کے اہلِ خانہ، ان کے علاوہ امریکا اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے کچھ غیر ملکی اس کمپنی میں شراکت دار ہیں۔

ذرائع نے بتایا تھا کہ چوہدری شوگر ملز میں سال 2001 سے 2017 کے درمیان غیر ملکیوں کے نام پر اربوں روپے کی بھاری سرمایہ کاری کی گئی اور انہیں لاکھوں روپے کے حصص دیے گئے۔

اس کے بعد وہی حصص متعدد مرتبہ مریم نواز، حسین نواز اور نواز شریف کو بغیر کسی ادائیگی کے واپس کیے گئے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کمپنی میں بھاری سرمایہ کاری کے لیے غیر ملکیوں کا نام اس لیے بطور پراکسی استعمال کیا گیا کیوں کہ شریف خاندان کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے استعمال کی جانے والی رقم قانونی نہیں تھی۔

جس پر 31 جولائی کو تفتیش کے لیے نیب کے طلب کرنے پر وہ پیش ہوئیں تھیں اور چوہدری شوگر ملز کی مشتبہ ٹرانزیکشنز کے سلسلے میں 45 منٹ تک نیب ٹیم کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔

رپورٹ کے مطابق یوسف عباس اور مریم نواز نے تحقیقات میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکیوں کو پہچاننے اور رقم کے ذرائع بتانے سے قاصر رہے اور مریم نواز نوٹس میں بھجوائے سوالوں کے علاوہ کسی سوال کا جواب نہیں دے سکی تھیں۔

جس پر نیب نے مریم نواز کو 8 اگست کو دوبارہ طلب کرتے ہوئے ان سے چوہدری شوگر ملز میں شراکت داری کی تفصیلات، غیر ملکیوں اماراتی شہری سعید سید بن جبر السویدی، برطانوی شہری شیخ ذکاؤ الدین، سعودی شہری ہانی احمد جمجون اور اماراتی شہری نصیر عبداللہ لوتا سے متعلق مالیاتی امور کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔

اس کے ساتھ مریم نواز سے بیرونِ ملک سے انہیں موصول اور بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر/ٹیلیگرافگ ٹرانسفر کی تفصیلات بھی طلب کی گئی تھیں۔

8 اگست کو ہی قومی احتساب بیورو نے چوہدری شوگر ملز کیس میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کو گرفتار کر کے نیب ہیڈکوارٹرز منتقل کر دیا تھا۔