مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی سیاست بدلنے جارہی ہے : شیخ رشید

لاہور : جن دو پاررٹیوں نے مولانا فضل الرحمان کی سیاست کو کیش کرنا تھا، انہوں نے کر لیا ہے، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی سیاست بدلنے جارہی ہے اور دونوں جماعتیں ایک نئی سیاست کی ابتداء کرنے جارہی ہیں۔

ریلوے ہیڈ کوارٹر لاہور میں وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے نواز شریف کے معاملے کو فضل الرحمان کے دھرنے سے ہٹ کر انسانی بنیادوں پر دیکھا ہے اور وہ کل یا پرسوں چلے جائیں گے۔ جب یہ کہا جائے کہ ہماری کل کی زندگی کی ضمانت دی جائے تو کیا کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے باہر جانے میں کوئی ڈیل یا ڈھیل نہیں اور یہ طبعی نظریہ ضرورت ہے اور پاکستان کی سیاست میں یہ ایک سیاستدان کی جان کا مسئلہ ہے۔ قطر میں ائیر ایمبولینس کھڑی ہے۔ یہ بد نصیبی ہے کہ یہاں سیاستدان کو جو بیماری لگتی ہے اس کا علاج پاکستان میں نہیں ہوتا۔ ان کی اولادیں، گھر اور اثاثے باہر ہوتے ہیں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ میں نے کہا تھا کہ نومبر، دسمبر اور جنوری کے پہلے پندرہ روز انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، میں کہتا تھا کہ نواز شریف باہر چلے جائیں گے، لیکن میرا مذاق اڑایا جاتا تھا۔

شیخ رشید نے کہا کہ آصف زرداری بڑے دل کا آدمی ہے، اس نے کرپشن کا پیسہ دوستوں کے ساتھ بانٹ کر کھایا ہے اور ان کے شیئرز ہولڈرز دس سے بارہ روز میں پلی بار گین شروع کردیں گے اور تین سے چار ماہ میں پلی بار گین کے ذریعے کیسز ختم ہوتے دیکھ رہا ہوں۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ نواز شریف سمجھتے ہیں کہ کفن کی بھی جیبیں ہوتی ہیں، اگر کوئی سیاستدان اپنی سیاست بیماری کے ذریعے کرے تو اس کیس کو اللہ کے حوالے کر دینا چاہیے۔ میں کہہ چکا ہوں کہ شہباز شریف وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے کے ماہر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاست میں جب انسانی زندگی کا مسئلہ پیدا ہو جائے تو ان حالات میں حکومت نے بہتر فیصلہ کیا ہے۔ میں ڈیل اور ڈھیل کے الزام کے ساتھ نہیں ہوں۔ عمران خان نے گیند اب شریف خاندان کے کورٹ میں ڈال دی ہے۔ ان کی ضمانت آٹھ ہفتوں کے لئے ہے اور وہ بری نہیں ہوئے بلکہ ان کے کیسز بر قرار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ خورشید شاہ کے بھی 126 اکاﺅنٹس نکلے ہیں، سلمان شہباز بڑے ٹارزن بنے ہوئے ہیں آپ پاکستان واپس آئیں، حمزہ اور سلمان شہباز شریف کی مجبوری ہیں، حمزہ، سلمان، آصف زرداری اور خورشید شاہ کے کیسز سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور یہ بارگین سے حل ہوں گے۔

ان کا کہنا یہ بھی کہنا تھا کہ نواز شریف نے جانا ہی جانا تھا، بڑے آدمی کو کوئی جیل میں نہیں رکھ سکتا اور نواز شریف کی بیماری اس کی وجہ بنی۔

انہوں نے بلاول بھٹو کی جانب سے سانحہ لیاقت پر مستعفیٰ ہونے کے مطالبے پر کہا کہ میں اس سانحہ پر کافی ڈپریشن میں ہوں اور میں بچوں کے منہ نہیں لگنا چاہتا۔ کوڑ کباڑ جارہا ہے اور اب یہاں صرف بچے ہی رہ جائیں گے۔

شیخ رشید نے کہا کہ سارے فیصلے عدالتوں نے دئیے ہیں اور اس کی نفی کرنا غیر مناسب بات ہوگی ۔ قانون کہتا ہے کہ نواز شریف کے کیسز یہی ہیں۔ اگر انہیں کچھ ہو جاتا توحکومت کے متھے لگ جاتے، انہیں باہر علاج کے لئے جانے کی اجازت دانشمندانہ سوچ ہے، فائل اوپر، نیچے یا گم ہو سکتی ہے، لیکن قدرت معاف نہیں کرتی۔ مریم نواز کا پاسپورٹ عدالت کے پاس ہے اور وہ نہیں جا رہیں ۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی سیاست بدلنے جارہی ہے اور دونوں جماعتیں ایک نئی سیاست کی ابتدا ءکرنے جارہی ہیں۔ جیل میں چھ یا دس سال کی سزا کاٹنا آسان ہے، لیکن 126 روز کا دھرنا دینا مشکل ہے، مولانا فضل الرحمان اپنے کارکنوں سے پوچھیں، پاکستان میں غریب کارکن پیدا ہی استعمال ہونے کے لئے ہوا ہے۔

آزادی مارچ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان غریب کارکنوں کو موسم کی شدت کی بھینٹ نہ چڑھائیں کیونکہ پہلے ہی تین کا انتقال ہو گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کو کچھ سمجھ نہیں آرہی، اب لاشوں کی سیاست ختم ہو گئی ہے، مولانا میڈیا میڈیا کھیل رہے ہیں، آج میڈیا انہیں دکھانا بند کر دے تو سب دھڑن ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے سے بڑ امطالبہ کر دیا ہے، کیا 10 سے 15 نشستوں سے حکومت بنائیں گے، چلیں 30 نشستیں لے جائیں گے، کیا اس سے حکومت بنتی ہے۔ جن دو پارٹیوں نے کیش کرنا تھا، انہوں نے کرلیا ہے، انہیں مولانا فضل الرحمان کی دعا لگ گئی ہے اور مولانا فضل الرحمان کے لئے دعائے خیر ہی ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ سانحہ لیاقت پور میں انسانی جانیں ضائع ہوئیں جس کا پوری قوم کو افسوس ہے، میں اس سانحہ کی وجہ سے ابھی تک ڈپریشن میں ہوں۔

انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کے حوالے سے فیصلے کے بعد مسلمانوں کو پورا یقین ہو گیا ہے کہ پاکستان بننا کیوں ضروری تھا اور آج بھارت میں بسنے والے مسلمان پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

کرتار پور راہداری کے افتتاح سے سکھ کمیونٹی سے دوستی، بھائی چارے اور سیاسی ہم آہنگی بڑھے گی۔ ننکانہ صاحب اسٹیشن کے علاوہ حسن ابدال میں ان کے لئے مہمان خانے بنارہے ہیں اور ان اقدامات سے مذہبی سیاحت کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔