مشیر خزانہ معاشی ٹیم سے ناخوش، ایف بی آر میں بڑی سطح پر تبدیلیوں کا امکان

خزانہ

اسلام آباد: آئی ایم کا قرضہ بھی حکومت کو خراب معاشی صورتحال سے باہر نکلنے میں مدد نہیں دے سکا ہے، ذرائع کے مطابق مشیر خزانہ معاشی ٹیم سے ناخوش ہیں۔

آئی ایم ایف سے قرض پروگرام کے باوجود حکومت کے معاشی مسائل میں کمی نہ آسکی ہے۔ معاشی اہداف حاصل نہ کرنے پر حکومت کے مسائل میں اضافہ ہوگیا ہے۔

وزارت خزانہ ذرائع کے مطابق مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ معاشی ٹیم کے کچھ اعلیٰ حکام سے ناخوش ہیں۔ حکومت مالیاتی خسارے، ٹیکس اہداف کے حصول میں ناکام ہیں۔ ایک سال میں پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ صفر کرنے کا خواب پورا کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف ایس او ایس مشن اتوار کو پاکستان کا دورہ کرے گا۔ ایس او ایس مشن پاکستان کی معاشی مشاورت اور مشن کو حالیہ ٹیکس آمدن میں کمی پربریفنگ دی جائے گی۔ آئی ایم ایف مشن پاکستان کو ٹیکس اہداف اور مالی خسارہ کم کرنے کیلئے مختلف تجاویز بھی پیش کرے گا۔ توانائی کے خسارے کم کرنے کے لیے آئی ایم ایف ایس او ایس مشن سے مشاورت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں : ایف بی آر کو ٹیکس وصولیوں میں مشکلات کا سامنا

ذرائع کے مطابق معاشی اہداف میں ناکامی پر ایف بی آر میں بڑی سطح پر تبدیلیوں کا امکان ہے۔ اہداف حاصل نہ کرنے پر آئندہ آئی ایم ایف کی قسط میں بھی تاخیر کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ مشیر خزانہ نے گزشتہ ماہ کے آخر میں کہا تھا کہ ایف بی آر کے اقدامات کے منفی اثرات آ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ایف بی آر کو جولائی، اگست 2019ء دو ماہ میں 68 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا رہا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ ماہانہ بنیادوں پر ایک ارب 10 کروڑ ڈالرز کے درآمدات کا دباؤ ہے۔

کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں پہلے دو ماہ جولائی، اگست 65 ارب کے مقابلے میں 49 ارب 80 کروڑ روپے جمع ہوئے۔ مجموعی اِن لینڈ ریونیو (آئی آر) کے ہدف 286 ارب روپے کے مقابلے میں وصولیاں 250 ارب روپے کی رہیں۔

انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں مقامی وصولیوں کا حجم گزشتہ مالی سال کے 110 ارب روپے کے مقابلے میں 150 ارب روپے رہا۔ آئی آر میں مجموعی نمو 26 فیصد رہی۔

آئی آر کی مقامی وصولیوں میں اگست 2019ء کے لئے 9 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا ہے۔

جس پر چیئرمین ایف بی آر شبّر زیدی نے اپنے ادارے کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار ظاہر کیا اور کہا کہ اگست 2019ء میں وصولیاں بڑھ کر 297 ارب روپے ہوگئیں اور توقع ہے کہ وہ 298 ارب روپے کو چھو لیں گی، جبکہ 300 ارب روپے تک پہنچ جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر نے یومیہ 15 ارب روپے اکٹھا کئے۔ پالیسی اقدامات کے مثبت اثرات ظاہر ہونے لگے ہیں۔