جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبریں

مفتی تقی کیس : کچھ اشارےملےہیں، جانتے ہیں کون لوگ ملوث ہیں : آئی جی سندھ

آئی جی سندھ کلیم امام نے مزار قائد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیس کے حوالے سے کچھ اشارےملےہیں، جانتے ہیں کون لوگ ملوث ہیں، کام تیزی سے جاری ہے دوسری طرف مفتی تقی عثمانی پرحملے کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید پولیس اہلکار کی نمازجنازہ گارڈن ہیڈکواٹرمیں اداکر دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق  آئی جی سندھ کلیم امام نے یوم پاکستان کے موقع پر مزار قائد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کام تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 500  سے زائد تھریٹ کوکامیابی سے روکا ، دہشتگردی کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ کلیم امام نے کہا کل افسوسناک واقعہ ہوا، شکر ہےمولانا تقی عثمانی محفوظ رہے، کیس کے حوالے سے کچھ اشارےملےہیں، جانتے ہیں کون لوگ ملوث ہیں، کام تیزی سے جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا سندھ پولیس نے کسی سے سکیورٹی واپس نہیں لی، سیف سٹی کا پروجیکٹ جلد آجائے گا، کارکردگی مزید بہتر ہوگی۔ دوسری طرف واقعے میں شہید پولیس اہلکار کی نمازجنازہ گارڈن ہیڈکواٹرمیں اداکی گئی، شہید اہلکارفاروق کی نمازجنازمیں گورنرسندھ عمران اسماعیل،آئی جی سندھ کلیم امام،ایڈیشنل آئی جی امیرشیخ ،صوبائی وزیربلدیات سعید غنی،اور رینجرزکے اعلی افسران سمیت شہید کے عزیزوقارب نے شرکت کی اس موقع پر شہید پولیس اہلکار کوسلامی بھی پیش کی گئی۔ نمازجنازہ کے بعد کورنگی قبرستان میں سوگواروں کی موجوگی میں سپردخاک کردیاگیا۔

یا درہے کہ دارالعلوم کراچی کے سربراہ مفتی تقی عثمانی معمول کے مطابق بیت المکرم مسجد میں نماز جمعہ کی امامت کیلئے جارہے تھے، گاڑی میں ان کی اہلیہ، دو پوتے، پولیس کانسٹیبل گارڈ اور ڈرائیور بھی موجود تھا، جبکہ ان کے آگے دوسری گاڑی بیت المکرم مسجد کے خطیب مولانا عامر شہاب کی تھی۔ نیپا چورنگی کے قریب دہشت گردوں نے گلشن پُل اترنے کے بعد مفتی عامر شہاب کی آگے جانیوالی گاڑی کی وجہ سے راستہ بلاک ہوگیا اور موٹر سائیکل سوار 2 حملہ آوروں نے گاڑی پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں مولانا عامر شہاب شدید زخمی ہوئے جبکہ ان کا گارڈ صنوبر خان شہید ہوگیا اور گاڑی فٹ پاتھ سے ٹکرا گئی، حملہ آور دوبارہ گھوم کر واپس آئے اور پیچھے آنیوالی مفتی تقی عثمانی کی گاڑی کو نشانہ بنایا، جس میں پولیس کانسٹیبل گارڈ فاروق شہید جبکہ ڈرائیور سرفراز زخمی ہوا لیکن اس نے گاڑی نہ روکی اور سیدھا اسپتال کی جانب لے گیا۔

کراچی پولیس چیف کا کہنا تھا کہ واقعہ فرقہ وارانہ نہیں، دہشت گرد شہر کا امن تباہ کرنا چاہتے ہیں۔فوٹیج میں دیکھا گیا کہ حملے کے بعد لوگ جائے وقوعہ کی جانب دوڑ رہے ہیں، جائے وقوعہ سے پندرہ خول ملے، پولیس حملہ آوروں تک پہنچنے کیلئے مزید شواہد اکٹھے کررہی ہے۔ پولیس جوان نے اپنی جان پر کھیل کر مولانا صاحب کی جان بچائی پولیس نے واقعے کے فوی بعد تصدیق کی تھی کہ فائرنگ کا نشانہ بننے والی گاڑیاں دارالعلوم کراچی کی ملکیت تھیں۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام سےواقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے واقعے میں ملوث کرداروں کو جلد ازجلد کیفر کردار تک پہنچانے کی ہدایت کی تھی اور ساتھ ہی ساتھ انہوں نے مساجد اور علمائے کرام کی سیکیورٹی بڑھانے کی بھی ہدایت کی۔

متعلقہ خبریں