جی ٹی وی نیٹ ورک
دنیا

مقبوضہ کشمیر : اکتوبر میں 10 نوجوان قتل، 50 سے زائد خواتین سے زیادتی

سری نگر : عرب نشریاتی ادارہ بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں اکتوبر کے مہینے میں توڑے گئے ظلم کی داستانوں کو سامنے لے آیا، گزشتہ ماہ سرینگر میں دس نوجوان جعلی سرچ آپریشن کے نام پر شہید کردیئے گئے۔

عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اکتوبر میں سرینگر میں دس نوجوان جعلی سرچ آپریشن کے نام پر شہید کردیئے گئے۔ بارہ مولا میں پانچ، شوپیاں میں تین، کشتواڑ میں دو نوجوان قابض افواج کے ہاتھوں مارے گئے۔

پچاس سے زائد خواتین کے ساتھ بھارتی فوج نے زیادتی کی۔ کشمیر کی جامع مساجد نمازیوں کی راہ دیکھتی رہیں۔ نمازجمعہ کے اجتماعات پر بھی پابندی رہی۔

اس دوران آرآر ایس کے غنڈوں نے ایک سو دس گھروں کو تباہ کردیا۔ مقبوضہ کشمیر میں قتل عام کو جواز فراہم کرنے کے لئے بھارتی فوج کی جانب سے غیر مقامی باشندوں کا قتل عام بھی جاری رہا۔ مارے جانے والے زیادہ تر غیر مقامی افراد مسلمان ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق اکتوبر کے مہینے میں ایک سو بیس بچوں کو قیدی بنایا گیا۔ ساٹھ سے زیادہ بچوں کو تشدد کے ذریعے عمر بھر کے لئے معذور کردیا گیا۔ پیلٹ گنز کے شکار افراد کی تعداد ساٹھ رہی، جن میں بیس بینائی سے محروم ہوگئے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے مظالم کی انتہا کردی ہے۔ اکتوبر کے مہینے میں بھارتی فوج نے بیس نوجوانوں کو شہید کیا۔ پچاس عورتوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔بھارتی فوج کے تشدد سے ساٹھ بچے عمر بھر کے لئے معذور ہوگئے۔الجزیرہ اور کشمیر میڈیا سروس نے رپورٹ جاری کردی۔

خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے انسانیت سوز سلسلے کو تین ماہ مکمل ہونے کو ہے۔

مقبوضہ وادی میں 5 اگست سے مسلسل لاک ڈاؤن، پابندیاں جاری ہیں۔ دکانیں اور کاروباری مراکز بدستور بند پڑے ہیں۔

پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر اور تعلیمی اداروں کی عمارتوں پر تالے پڑے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل فوجی محاصرہ قائم اور مواصلاتی ذرائع بھی معطل ہیں۔ کشمیریوں کی زندگی مکمل طور پراجیرن ہو چکی ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں پابندیوں اور 9 لاکھ بھارتی فوجی اہلکار تعینات ہونے کے باوجود فوج کی اضافی نفری تعینات کی گئی۔

متعلقہ خبریں