جی ٹی وی نیٹ ورک
دنیا

مقبوضہ کشمیر : بھارتی بربریت اور لاک ڈاؤن جاری، تین ماہ مکمل ہونے کے قریب

سری نگر : مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت اور لاک ڈاؤن کو تین ماہ مکمل ہونے کو ہیں۔ دکانیں، دفاتر بدستور بند، سڑکیں صحرا کا منظر پیش کرنے لگی ہیں۔ مواصلاتی نظام کی بندش سے کشمیری شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے انسانیت سوز سلسلے کو تین ماہ مکمل ہونے کو ہے۔

مقبوضہ وادی میں 5 اگست سے مسلسل لاک ڈاؤن، پابندیاں جاری ہیں۔ دکانیں اور کاروباری مراکز بدستور بند پڑے ہیں۔

پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر اور تعلیمی اداروں کی عمارتوں پر تالے پڑے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل فوجی محاصرہ قائم اور مواصلاتی ذرائع بھی معطل ہیں۔ کشمیریوں کی زندگی مکمل طور پراجیرن ہو چکی ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں پابندیوں اور 9 لاکھ بھارتی فوجی اہلکار تعینات ہونے کے باوجود فوج کی اضافی نفری تعینات کی گئی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز مقبوضہ جموں و کشمیر کی باضابطہ طور پر تقسیم کردی گئی ہے اور جموں و کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ دو ٹکروں میں وفاق کے زیر نگرانی ہوگا۔

مرکز کے زیر انتظام دو نئے علاقے جموں و کشمیر اور لداخ، بھارت کے نامور سیاستداں سردار ولبھ بھائی پٹیل کے 144 ویں یوم پیدائش کے موقع پر وجود میں آئے ہیں۔

سردار ولبھ بھائی نے 560 سے زائد سلطنتوں کا بھارت میں انضمام کروایا تھا، یہی وجہ ہے کہ 31 اکتوبر کو بھارت میں قومی اتحاد کا دن منایا جاتا ہے۔

جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت نے دفعہ 370 کے تحت جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے تقریبا تین ماہ بعد ریاست کو باظابطہ طور پر دو مرکزی علاقے جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کردیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے جب کسی ریاست کو دو یونین ٹیریٹریز میں تبدیل کر دیا گیا۔ بھارت میں اب ریاستوں کی کل تعداد 28 ہو گئی، جبکہ یونین ٹیریٹریز کی تعداد مجموعی طور پر نو ہو جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی جموں و کشمیر کا آئین اور پینل کوڈ آج سے ختم ہوگیا۔

رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کو دو علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کرنے کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں انتظامی لحاظ سے بہت سی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔

جموں و کشمیر کے یونین ٹیریٹریز میں پانڈیچری جیسی مقننہ ہوگی، جبکہ لداخ چنڈی گڑھ کی طرح مقننہ کے بغیر ایک یونین ٹیریٹری ہوگا اور ایکٹ کے مطابق دونوں یونین ٹیریٹریز کی سربراہی دو الگ لیفٹیننٹ گورنرز (LG) کریں گے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مرکز اور پولیس کا براہ راست کنٹرول ہوگا۔

لداخ کی یونین ٹیریٹری مرکزی حکومت کے براہ راست کنٹرول میں ہوگی جو گورنرکے ذریعے خطے کا انتظام کرے گی۔ کئی محکموں کے نام تبدیل کرنے کے علاوہ اب سرکاری فائلوں میں بھی لفظ ‘ریاست’ کا استعمال بھی ختم ہو گیا۔

متعلقہ خبریں