مقبوضہ کشمیر : بھارتی فوج کے ظلم وستم اور کرفیو ایک سو ایک ویں روز میں داخل

مقبوضہ کشمیر ایک سو ایک ویں

سری نگر : مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبر اور بربریت ایک سو ایک ویں روز میں داخل ہوگئی ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان نے بھی مسئلہ کشمیر پر ایک اور اجلاس کل طلب کرلیا۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ظلم وستم اور کرفیو ایک سو ایک ویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔ بھارتی فوج کے ہر گلی میں پہرے برقرار ہے، شہری گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔ بچے اسکول جانے سے، نوجوان باہر نکلنے سے خوفزدہ ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے جاری فوجی محاصرے اور مواصلاتی ذرائع کی معطلی کی وجہ سے وادی کشمیر، جموں اور لداخ کے مسلم اکثریتی علاقوں میں معمولات زندگی مفلوج ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بھارت کو امن چاہیے تو کشمیر پر اپنی پالیسی تبدیل کرے : شاہ محمود قریشی

بھارتی فورسز کی بھاری تعداد میں موجودگی کے علاوہ علاقے میں دفعہ 144 کے تحت سخت پابندیاں عائد ہیں۔

وادی کشمیر اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں بھارتی قبضے اور اس کے 5 اگست کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف وادی کشمیر کے لوگوں نے بطور احتجاج اپنی دکانیں اور کاروباری مراکز مسلسل بند رکھی ہوئی ہیں۔

سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں میں عملے اور طلباء کی حاضری نہ ہونے کے برابر ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں سے غائب ہے۔

لوگوں کی روز مرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دکانیں صرف صبح اور شام کے وقت ایک دو گھنٹوں کے لیے کھلتی ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں جاری مسلسل کرفیو کے خلاف دنیا بھر میں آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ امریکی ایوان نمائندگان نے بھی مسئلہ کشمیر پر ایک اور اجلاس کل طلب کرلیا۔ اجلاس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔