نازیہ حسن کو بچھڑے ہوئے 19 برس بیت گئے

کراچی : پاکستان میں پاپ میوزک کی رانی نازیہ حسن کو بچھڑے ہوئے 19 برس بیت گئے۔

موسیقی کی دنیا میں منفردانداز متعارف کرانے والی پاپ گلوکارہ نازیہ حسن کو بچھڑے انیس برس بیت گئے۔ شہرت کی بلندیوں پر رہنے والی نازیہ حسن کے گیت مداحوں کے دلوں پر آج بھی راج کررہے ہیں۔

موسیقار سہیل رانا کے ٹی وی پروگرام سنگ سنگ چلےسے موسیقی کی دنیا میں قدم رکھنےوالی نازیہ حسن کو پاکستانی پاپ میوزک کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

جادوئی آواز کی مالک نازیہ حسن تین اپریل انیس سو پینسٹھ کو کراچی میں پیدا ہوئیں اور انہوں نے اپنی تعلیم لندن میں مکمل کی۔

نازیہ حسن نے کم عمری میں ہی اپنے فنکارانہ صلاحیتوں کا اظہار کرنا شروع کردیا تھا۔ انیس سو ستر کی دہائی میں بطورچائلڈ آرٹسٹ گلوکاری کی دنیا میں نام پیدا کرنے والی ننھی سی گڑیا نے انیس سو اسی میں پندرہ سال کی عمر میں ہی بھارتی فلم قربانی کے لیے گیت گا کرموسیقی کی دنیا میں تہلکہ مچادیا۔

نازیہ حسن نے اپنے نے بھائی زوہیب کے ساتھ میوزک ایلبم ریلیز کیا، جس نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کردیئے۔

نازیہ حسن کو فنی خدمات کے اعتراف میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔

شہرت کی بلندیوں کو چھونے والی نازیہ حسن پھیپڑوں کے سرطان میں مبتلا ہوئیں اور تیرہ اگست سن دو ہزار کو خالق حقیقی سے جا ملیں۔

پاپ گلوکارہ نازیہ حسن دنیا سے منہ موڑ گئیں، مگر ان کی یادیں آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔