نالائق وزیراعظم کے باعث کشمیر پر سودا نہیں کرسکتے، وزیر خارجہ کے بیان سے دلبرداشتہ ہوئے : بلاول بھٹو

اسلام آباد : بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ہم حکومت کو کشمیر کے مسئلے پر پیچھے ہٹنے نہیں دیں گے، کوئی ٹھوس پالیسی، کوئی واضح موقف نہیں آرہا، صرف وزیراعظم ٹویٹ مار رہے ہیں؟ آپ کو ان سوالات کا جواب دینا ہوگا۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے اس وجہ سے ہم عید سوگ میں منا رہے ہیں۔ کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے نماز عید مظفر آباد میں پڑی ہے، تاکہ بتائیں کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ شانہ بشانہ پڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے قومی سیاسی جماعت کے سربراہ نے وہاں عید گزاری ہے۔ حکومت و دیگر جماعتوں کی نمائندگی بھی اظہار یکجہتی کے لیے آئی جس سے ایک بڑا پیغام آیا۔ ہمیں کشمیری عوام کے جذبات کے مطابق ان کا ساتھ دینا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ افسوس حکمران اس بات پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کریں۔ ہم پارلیمان سے ٹھوس پیغام متحدہ قومی قیادت کا بھجوانا تھا مگر حکومت نے ایک خاتون کو گرفتار کرلیا۔

پی پی چیئرمین نے کہا کہ میں اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے نماز پڑھنے گیا، تو رات 12 بجے فریال تالپور کو ہسپتال سے گھسیٹ کر اڈیالہ بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ ڈاکٹرز تک موجود نہیں تھے، مگر بزدل حکومت نے فریال تالپور کو خلاف قانون رات 12 بجے جیل منتقل کیا۔

انہوں نے کہا کہ میں کشمیر میں تھا، اور فریال کا بھائی جیل میں تھا اور اس وقت ایک غیر آئینی اقدام اٹھا کر ہمیں کیا پیغام دیا گیا ؟؟ میں نے مظفرآباد میں نماز عید کے پیغام میں کوئی بات تک نہیں کیونکہ مجھے وہاں اظہار یکجہتی کا پیغام دینا تھا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ مجھ سے کشمیری رہنما، کشمیری صحافی سوال کرتے ہیں کیا وزیراعظم اس سازش میں ملوث تو نہیں؟؟ کوئی ٹھوس پالیسی، کوئی واضح موقف نہیں آرہا، صرف وزیراعظم ٹویٹ مار رہے ہیں؟ آپ کو ان سوالات کا جواب دینا ہوگا۔ اپوزیشن کے مطالبے کے بعد آپ مشترکہ اجلاس بھی بلاتے ہیں، کمیٹیاں بھی بناتے ہیں۔ ہم کشمیر جائیں تو آپ وفاق کا نمائندہ بھیج دیتے ہیں۔

پی پی چیئرمین نے کہا کہ دو دن مظفرآباد اسمبلی انتظار کرتی رہی مگر وزیراعظم دعوت کے باوجود نہیں گئے۔ آپ کی تمام ناکامیاں برداشت کرسکتے ہیں مگر کشمیر کے ایشو پر کچھ برداشت نہیں کرسکتے۔ کشمیر کے معاملے پر تمام جماعتیں متحد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مودی کی انتہاء پسندی پر حکومت رہی، مودی جس نے کشمیر پر تاریخی حملہ کیا۔ مودی کی سنگین خلاف ورزیوں پر آپ یکجہتی کی بجائے مریم نواز کو گرفتار کرکے بڑی خبر بنوا دیتے ہیں۔ دنیا مریم نواز اور محبوبہ مفتی کی گرفتاریوں پر مودی اور عمران میں کوئی فرق نہیں کررہی۔

انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے۔ کسی ایک کاغذ پر فیصلہ لکھنے پر ہم کسی نالائق وزیراعظم کے فیصلے کو نہیں مانیں گے۔ مطالبہ کرتا ہوں حکومت ذمہ دارانہ فیصلہ لے اور قومی یکجہتی پیدا کرنے اقدام اٹھائے اور مسئلہ کشمیر کو سنجیدہ لے۔ حکومت کو کسی صورت مسئلہ کشمیر سے پیچھے نہیں ہٹنے دینگے۔

سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیر خارجہ کو اندازہ نہیں اس بیان سے ہم کتنے دلبرداشتہ ہوگئے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمیں کوشش ہی نہیں کرنا چاہیے، کیا ہم یہ سمجھنے پر مجبور ہوجائیں کہ آپ کچھ کرنا ہی نہیں چاہتے۔ حکمران اتنے چھوٹے ہیں کہ وہ اپنی حرکتوں سے مزید چھوٹے ہوجائینگے۔

پی پی چیئرمین نے کہا کہ سزائے موت کے قیدی کو بھی نماز سے نہیں روکا جاسکتا، لیکن سابق صدر زرداری کو روک دیا گیا۔ ہم سیاسی انتقام پر یقین نہیں رکھتے، فریال تالپور کے حوالے سے قانونی جنگ لڑینگے اور تمام ملوث افراد کو قانونی کارروائی کے تحت احتساب کرائینگے۔

انہوں نے کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل، نیویارک ٹائمز اور بی بی سی جنہیں ہم نے خود پابندی لگائی وہ آج حکومت سے زیادہ کشمیر ایشو اٹھا رہے ہیں۔

جی نیوز کے سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ کراچی میں بارش سے متعلق سب سوشل میڈیا اور اسٹیبلیشمنٹ کا پروپیگنڈا ہے، میرے ساتھ ٹکٹ کٹوائیں، آپ کو کراچی میں دیکھاتا ہوں، وزیراعلیٰ سندھ سمیت تمام وزراء اور بیورو کریٹس عید اور عید سے پہلے بھی کام میں مصروف ہیں۔

انہوں نے شکوہ کیا کہ پورے ملک میں بارشیں ہوتی ہیں، لاہور کی کبھی خبر سامنے نہیں آتی، کیوں؟ مشرف دور میں جب کراچی کا بڑا مافیا پورے صوبہ پر ملوث تھا اس وقت انڈر پاسز سمیت ہر چیز ڈوبی تھی، تب کسی کو خیال نہیں آیا؟

انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد اور لاہور سطح سمندر سے اونچے اور کراچی سطح سمندر سے نیچے ہے۔ کراچی میں تاریخی بارشیں ہوئی ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس وقت انفراسٹرکچر میں کچھ خامیوں کی وجہ کراچی پر قابض ہونے والا مافیا بھی ہے۔