نجی اسکولوں کی فیسوں میں 2017 کے بعد کیا گیا اضافہ کالعدم قرار

نجی اسکولوں

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نجی اسکولوں کی جانب سے فیسوں میں اضافے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے فیسوں کو جنوری 2017 کی سطح پر منجمد کرتے ہوئے اضافے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

سابق چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے بھاری فیس وصول کرنے والے اسکولوں کی فیسوں میں 20 فیصد کمی اور پانچ فیصد سے زائد اضافہ نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی کی اپیل کی گئی تھی جبکہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اسکولوں کے مالکان نے عدالت عظمٰی سے رجوع کیا تھا۔

تین رکنی بینچ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس اعجاز الحسن اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل تھا، جس نے نجی اسکولوں اور طلبا کے والدین کی جانب سے فیسوں میں اضافے کے حوالے سے درخواستوں کی سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیں : جوڈیشل ریمانڈ میں 17 ستمبر تک توسیع، خواجہ برادران نے بریت کی درخواست دائر کردی

عدالت عظمٰی کے تین رکنی بینچ نے 69 صفحات پر مبنی تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ نجی اسکولوں نے 2017 کے بعد فیسوں میں بہت زیادہ اضافہ کیا تاہم اب نجی اسکولوں کی فیس وہی ہوگی جو جنوری 2017 میں تھی۔

سپریم کورٹ کے جسٹس فیصل عرب نے فیصلہ پر اختلافی نوٹ بھی تحریر کرتے ہوئے کہا کہ فیسوں میں 5 فیصد اضافے کی حد نامناسب اور 8 فیصد اضافہ زمینی حقائق سے مطابقت رکھتا ہے۔

جسٹس فیصل عرب نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ پچھلے 30 سال میں بڑی تعداد میں نجی تعلیمی ادارے کھلے اور ان میں زیادہ طلبا کے داخلوں کا سبب سرکاری تعلیمی اداروں کی مستقل ناقص کارکردگی ہے، جبکہ اکثر تعلیمی اداروں کی عمارتیں بھی خراب ہیں۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں پابند کیا کہ 2018 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی کی کم کی گئی 20 فیصد فیسوں کی وصولی کو نجی اسکول والدین سے کسی بھی صورت وصول نہیں کیا جا سکے گا۔

اعلیٰ عدلیہ نے کہا کہ فیسوں میں کسی بھی قسم کی ردوبدل کے لیے جنوری 2017 کی فیسوں کو ہی بنیاد بنایا جائے اور قانون کے مطابق متعلقہ ریگولیٹری اتھارٹی کی نگرانی میں اسکولوں کی فیسوں کا دوبارہ تعین کرنے کے بعد متعلقہ حکام کی منظوری ملنے کے بعد نئی فیس والدین سے لی جا سکے گی۔

عدالت نے فیسوں کی شکایات اور ازالہ کے لیے کمپلینٹ سیل قائم کرنے اور وصول کردہ اضافی فیس آئندہ مہینوں کی فیس میں ایڈجسٹ کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ریگولیٹری اتھارٹی نجی اسکولوں کی جانب سے وصول کی جانب سے وصول کی جانے والی فیسوں پر نظر رکھیں گے تاکہ قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جا سکے۔