جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

نیب کو سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کیس بنایا جائے : شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد: شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نیب کو سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کیس بنایا جائے۔ آج تک کرپشن کا کوئی چارج نہ نواز شریف پر ہے نہ ہم پر۔ ثبوت ہوں گے تو کچھ ثابت کر سکیں گے۔

احتساب عدالت اسلام آباد میں ایل این جی کیس کی سماعت ہوئی۔ جج محمد بشیر نے کیس کی سماعت کی۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل اور عمران الحق کو عدالت میں پیش کر دیا گیا۔

پیشی کے موقع پر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ڈیڑھ سال سے کیس چل رہا ہے، نیب ابھی تک کوئی ریفرنس نہیں بنا سکا ہے۔ نیب کو سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کیس بنایا جائے۔ ہمیں جیل میں اپنے ساتھیوں سے ملنے دیا جا رہا ہے نہ ہی وکلاء سے۔ جب تک ہم اکٹھے نہیں بیٹھیں گے، اس کیس کا دفاع کیسے کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت اس کیس کے ملزمان کو جیل میں مل بیٹھنے کا حکم جاری کرے۔ پوری مشینری ہمارے خلاف استعمال ہو رہی ہے، عدالت اور جج کے احکامات پر بھی عمل نہیں ہو رہا ہے۔ عدالت ہمیں اپنے دفاع کے لیے لیپ ٹاپ استعمال کرنے کی اجازت دے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عدالت مستقل بنیادوں پر وکلاء سے مشاورت اور ملاقات کی اجازت بھی دے۔ حکومت کو بہت شوق ہے تو ہمیں پہلے رہا کرے اور پھر دوبارہ گرفتار کرے۔

جج محمد بشیر نے کہا کہ جیل حکام سے پوچھیں گے کہ ملزمان کی جیل میں ملاقات کیسے ممکن ہو سکتی ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا آپ سب کا وکیل مشترکہ نہیں ہو سکتا؟ شاہد خاقان اور مفتاح اسماعیل نے جواب دیا کہ اس کیس میں ہم سب کے الگ الگ وکیل ہیں۔

وکیل صفائی نے کہا کہ مفتاح اسماعیل کو جیل میں پرہیزی خوراک بھی نہیں فراہم کی جا رہی ہے، ملزمان کو اہل خانہ سے ٹیلی فون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے۔ جج محمد بشیر نے کہا کہ اگر جیل مینوئل میں لکھا ہے تو میں تب ہی اجازت دوں گا۔

شاہد خاقان نے کہا کہ میرا میڈیکل بورڈ بنایا گیا، رپورٹ فراہم نہیں کی گئی، عدالت حکام سے میڈیکل رپورٹ منگوائے۔ عدالت نے میڈیکل رپورٹ، لیپ ٹاپ کے استعمال اور ملزمان کی آپس میں ملاقات سے متعلق جیل حکام سے جواب طلب کر لیا۔

کیس کی سماعت مزید سماعت 28 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔

میڈیا سے غیر رسمی بات کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ آج تک کرپشن کا کوئی چارج نہ نواز شریف پر ہے نہ ہم پر۔ صرف گرفتاریاں ہی گرفتاریاں ہیں ثبوت کوئی نہیں۔ ثبوت ہوں گے تو کچھ ثابت کر سکیں گے. حکومت جعلی کیسز بنا رہی ہے.

انہوں نے کہا کہ ریاست ہی نا انصافی پر اتر آئی ہے اور سرکاری افسران کو دھمکیاں دے کر وعدہ معاف گواہ بنایا جا رہا ہے. یہ کیس نہ چلیں گے نہ تاریخ ان کو معاف کرے گی. ہم یہ سب برداشت کر لیں گے لیکن شاید یہ حکومت برداشت نہ کر سکے.

مولانا کے آزادی مارچ سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ ہی سب سے بڑی کامیابی ہے حکومت ناکام ہو چکی ہے. آزادی مارچ میں شرکت کا فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی.

متعلقہ خبریں