والد سے دوری ہمارے لیئے حبسِ دم جیسی ہے : بختاور بھٹو زرداری

کراچی : بختاور بھٹو نے کہا ہے کہ میرے والد کو وہ طبی سہولیات بھی نہیں دی جا رہیں، جو بطور شہری اور سابق صدر ان کا حق ہے۔ اب ان کی دوری ہمارے لیئے حبسِ دم جیسی ہے۔

آصف علی زرداری کی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری نے عرب نیوز کو انٹریو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں، صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات فقط انتقام ہے۔ نیازی حکومت کا کرپشن کے خلاف اقدامات واقعتاً منافقت اور اپوزیشن کے خلاف انتقامی کاروائیوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

بختاور بھٹو زرداری نے کہا کہ میری والدہ کا سیاسی کردار ختم کرنے کے لیئے میرے والد پر کرپشن کے جھوٹے الزامات لگائے گئے۔ مذموم سازش کے تحت 90 کی دہائی سے میرے والد کے خلاف لغو الزامات لگانا شروع کیئے گئے۔  

انہوں نے کہا کہ میرے والد نے بطور سیاسی رہنماء جب کبھی جرتمندانہ قدم اٹھایا، جھوٹی الزامات ان کی ذات پر تھونپ دیئے جاتے ہیں۔ 2010ع میں میرے والد کی زیرِ قیادت حکومت نے آئینی اصلاحات متعارف کرائیں۔ مذکورہ اصلاحات کے تحت صدر کو حاصل وہ اختیارات ختم کردیئے گئے، جو ماضی میں فوجی آمروں نے بنائے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے والد کو پہلے بھی جھوٹے الزامات کے تحت 11 سال جیل میں قید رکھا گیا۔ بعدازاں عدالتوں نے انہیں مذکورہ تمام الزامات سے باعزت بری کیا۔ جب ہمارے والد جیل میں تھے، تب ہم اپنی والدہ کی شفقت کے زیرِ سایہ چھوٹے بچے تھے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ بھیانک حقیقت ہم سے چھپائی جارہی ہے کہ ہمارے والد پر جیل میں کیا کیا ظلم ہو رہے ہیں۔ اب ان کی دوری ہمارے لیئے حبسِ دم جیسی ہے۔ میرے والد عارضہ قلب میں مبتلا ہیں، ہائی بلڈ شگر سمیت دیگر امراض بھی انہیں لاحق ہیں۔

بختاور بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت میرے والد کی درست انداز میں میڈیکل ٹیسٹس کروانے کی اجازت دینے سے بھی گریزاں ہے۔ میرے والد کو وہ طبی سہولیات بھی نہیں دی جا رہیں، جو بطور شہری اور سابق صدر ان کا حق ہے۔