وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کا باضابطہ افتتاح کردیا

نارووال : وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کا باضابطہ افتتاح کردیا ہے۔ کرتار پور سکھ برادری کے لیئے مدینہ جیسی حیثیت رکھتا ہے۔ لیڈر لوگوں کو ملاتا ہے، نفرت پھیلا کر ووٹ نہیں لیتا۔

ضلع نارووال میں واقع کرتار پور میں سکھ برادری کے مذہبی پیشوا بابا گرو نانک کے 550ویں جنم دن پر افتتاح کرنے کے بعد شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سکھ برادری کو بابا گرو نانک دیوجی جنم دن کی مبارک باد دی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ کرتارپور منصوبے کو 10 ماہ کے قلیل عرصے میں مکمل کرنے والے تمام اداروں اور وزارتوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میری حکومت اتنی محنتی ہے، اس کا مطلب ہم اور بھی کام کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اللہ کے تمام پیغمبر دنیا میں انصاف اور انسانیت کا پیغام لے کر آئے، انصاف اور انسانیت جانوروں کے معاشرے سے فرق کرتی ہے۔ بابا گرونانک کا نظریہ اور فلسفہ بھی انسانیت اور محبت کی بات کرتا ہے، یہ انسانوں کو تقسیم کرنے اور نفرتیں پھیلانے کی بات نہیں کرتا۔

عمران خان نے کہا کہ برصغیر میں صوفی بابا فرید شکر گنج، نظام الدین اولیا، حضرت محی الدین چشتی انسانیت کے لیے آئے تھے۔ جو لوگ انسانیت کے لیئے کام کرتے ہیں، دنیا انہیں یاد رکھتی ہے۔ لوگ آج بھی ان کے مزاروں پر جاتے ہیں۔

وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ ایک سال پہلے تک مجھے راہداری کی اہمیت کا پتہ نہیں تھا، مجھے خوشی ہے کہ راہداری کو کھول سکیں ہیں، کرتار پور سکھ برادری کے لیئے مدینہ جیسی حیثیت رکھتا ہے۔

تقریب سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ تمام پیغمبر لیڈرز تھے، لیڈر لوگوں کو ملاتا ہے، نفرت پھیلا کر ووٹ نہیں لیتا۔ نیلسن منڈیلا نے 27 سال جیل میں کاٹنے کے بعد اپنے مجرموں کو معاف کیا اور محبت کا پیغام دے کر خون کی ہولی سے ملک کو بچا لیا۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد نریندر مودی کو بتایا کہ خطے میں سب سے بڑا مسئلہ غربت ہے اور تجارت اور سرحدیں کھولنے سے خوشحالی آسکتی ہے۔ ہمارے درمیان کشمیر کا مسئلہ موجود ہے، جسے ہم ہمسایوں کی طرح بات چیت کرکے حل کرسکتے ہیں۔

کشمیر پر مزید بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ خطے کی حدود سے نکل کر انسانی حقوق کا مسئلہ بن چکا ہے، 80 لاکھ لوگوں کے انسانی حقوق ختم کرکے انہیں 9 لاکھ فوج سے بند کیا ہوا ہے، اس وقت یہ انسانیت کا مسئلہ ہے یہ زمین کا مسئلہ نہیں، زبردستی ان کا وہ حق لے لیا ہے جو اقوام متحدہ کی قرادادوں نے انہیں دیا تھا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ نریندر مودی سے کہنا چاہتا ہوں کہ انصاف سے امن ہوتا ہے، ناانصافی سے انتشار پھیلتا ہے، کشمیر کے لوگوں کو انصاف دیں اور سارے برصغیر کو اس مسئلے سے آزاد کریں تاکہ ہم انسانوں کی طرح رہ سکیں۔

عمران خان نے کہا کہ اس مسئلے کے حل نہ ہونے کی وجہ سے 70 سال سے نفرتیں ہیں، جب کشمیر کا مسئلہ حل ہوجائے گا ان کے حقوق مل جائیں گے تو برصغیر میں خوشحالی آئے گی اور وہ دن اب دور نہیں ہے۔

افتتاحی تقریب میں وزیر داخلہ اعجاز شاہ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری، گورنر پنجاب چوہدری سرور، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی ذوالفقار بخاری، معروف کاروباری شخصیت انیل مسرت و دیگر افراد نے شرکت کی۔

بھارت سے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ، سابق کرکٹر نووجوت سنگھ سدھو، بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ، بالی وڈ اداکار سنی دیول و دیگر سمیت ہزاروں سکھ یاتریوں نے شرکت کی۔