جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیئے وزیراعظم کا مظفرآباد میں ‘بڑے جلسے’ کا اعلان

جلسے

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی افواج کے محاصرے کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کروانے اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے مظفرآباد میں جلسے کا اعلان کردیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں وزیراعظم عمران خان نے لکھا کہ میں جمعہ 13 ستمبر کو مظفرآباد میں بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کروں گا۔


انہوں نے لکھا کہ جلسے کا مقصد غاصب بھارتی افواج کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے جاری محاصرے کے بارے میں دنیا کو پیغام بھجوانا ہے اور جلسے سے اہل کشمیر کو یہ بتانا ہے کہ پاکستان پوری ثابت قدمی سے ان کے ساتھ کھڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کشمیریوں کے حق میں سب سے طاقتور اور توانا آواز عمران خان کی ہے : فردوس عاشق

خیال رہے کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست کے اقدام کے بعد حکومت پاکستان اور وزیراعظم عمران خان کافی متحرک ہیں اور وہ مختلف مواقع پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کر رہے ہیں۔

بھارت کی جانب سے 5 اگست کو اپنے آئین کی دفعہ 370 اور 35 اے کا خاتمہ کردیا گیا تھا، جس کے ساتھ ہی مقبوضہ کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت ختم ہوگئی تھی۔

اس اعلان سے کچھ گھنٹوں قبل ہی بھارت نے مقبوضہ وادی میں ہزاروں کی تعداد میں اضافی فوجی تعینات کرکے وہاں لاک ڈاؤن اور کرفیو نافذ کردیا تھا، جبکہ مواصلاتی نظام بھی مکمل طور پر بند کردیا تھا اور یہ کرفیو تاحال جاری ہے۔

بھارت کے اس اقدام کے بعد وزیراعظم عمران خان نے عالمی سطح پر معاملے کو اٹھانے کے لیے مختلف ممالک کے سربراہان سے بھی رابطے کیے تھے۔

مقبوضہ کشمیر سے متعلق نریندر مودی کی حکومت کے فیصلے پر پاکستان نے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود اور دوطرفہ تجارت معطل کردی تھی، بھارتی سفیر کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا جبکہ بھارت جانے والی ٹرین اور بس سروس بھی معطل کردی گئی تھی۔

اس کے ساتھ ہی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے پاکستان کا یوم آزادی یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا گیا تھا۔

بعدازاں وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے ‘کشمیر آور’ منانے کا اعلان کیا تھا اور 30 اگست کو ملک بھر میں مقبوضہ وادی کے مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے عوام دن 12 سے 12.30 بجے تک باہر نکلے تھے۔

علاوہ ازیں پاکستان نے یوم دفاع کو بھی یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا تھا، جبکہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں وزیراعظم عمران خان کی منظوری کے بعد بھارتی صدر کو آئس لینڈ جانے کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا تھا۔

متعلقہ خبریں