جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

وزیر خارجہ کی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمشنر سے ملاقات، کشمیر پر تبادلہء خیال

انسانی حقوق

جینیوا : شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمشنر مشیل باشیلے سے ملاقات میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پربات چیت کی ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمشنر مشیل باشیلے سے ملاقات کی۔

ملاقات میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بات چیت کی گئی۔ شاہ محمود قریشی نے مشیل باشیلے کو کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ بھارت نے پانچ اگست سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے، مسلسل کرفیو کے سبب ادویات اور خوراک تک میسر نہیں ہیں، جس کے باعث اسپتال، قبرستانوں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔

مشیل باشیلے نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ملیحہ لودھی کا اقوام متحدہ ایل او سی مانیٹر مشن کو مضبوط کرنے کا مطالبہ

اپنے بیان میں دو ٹوک انداز میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بحالی اور کرفیو کے فی الفور اٹھائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے آغاز میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کے خلاف بھرپور آواز بلند کرنے اور کرفیو اور لاک ڈاؤن کے خاتمے کا مطالبہ کرنے پر کمشنر انسانی حقوق مشیل باشیلے کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کئے گئے یکطرفہ اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں بلکہ اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کی بھی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کو بےنقاب کرنے کیلئے سرگرم ہے اور بھارتی مظالم پر ڈوزیئر تیار کیا گیا تھا۔

مقبوضہ وادی میں بھارتی درندگی کے خلاف 115 صفحات پر مشتمل تیار کردہ ڈوزیئر میں بھارتی غاصبانہ اقدامات کی تفصیل اور تصاویر بھی موجود تھیں۔

ڈوزیئر میں بھارتی بربریت کا شکار لوگوں کے نام اور دیگر معلومات بھی شامل تھیں، جسے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں پیش کیا گیا۔

ڈوزیئر کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں 37 ویں روز بھی مکمل لاک ڈاؤن ہے اور کرفیو کے باعث لوگ گھروں میں محصور ہیں، اشیائے خورونوش اور ادویات ختم ہونے سے انسانی بحران جنم لینے لگا ہے۔

ڈوزیئر میں کہا گيا تھا کہ مقبوضہ وادی میں فاشسٹ مودی سرکار نے کشمیریوں کی مذہبی آزادی بھی سلب کرلی، وادی میں 10 ویں محرم کے جلوس نہیں نکالنے دیے گئے۔

ڈوزیئر میں بتایا گیا تھا کہ 9 محرم الحرام کا جلوس نکالنے والوں پر بھارتی فوج نے بدترین لاٹھی چارج کیا، پیلٹس لگنے سے 12 عزادار زخمی ہوئے اور کئی کو گرفتار بھی کیا گیا۔

ڈوزیئر میں 1989 سے 2019 تک مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کا شکار ہونے والے افراد کے اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے تھے، جس کے مطابق بھارتی فوج کے مظالم میں ایک لاکھ سے زائد افراد شہید ہوچکے ہیں۔ ایک لاکھ 65 ہزار سے زائد افراد گرفتار ہیں جبکہ 11 ہزار سے زائد خواتین کو زیادتی اور بیحرمتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں