بلاول بھٹو کا مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے میں شرکت نہ کرنے کا اعلان

دھرنے

جامشورو : بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کے اسلام آباد میں دھرنے کی اخلاقی اور سیاسی طور پر حمایت کرتے ہیں، پیپلزپارٹی دھرنے کی سیاست کی ہامی نہیں ہے۔

جامشورو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے وفاقی دارالحکومت میں احتجاج کا فیصلہ خود لیا ہے، تاہم میں ان کی حمایت کروں گا۔ مولانا فضل الرحمٰن اسلام آباد میں ہوں گے، لیکن وہ (بلاول بھٹو) اس سلسلے میں پورے ملک کا دورہ کریں گے۔

مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے طویل دھرنے کا حوالہ دیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’پیپلز پارٹی اپوزیشن میں ہونے کے باوجود دھرنا سیاست میں شریک نہیں ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں : پیپلز پارٹی کا صنعتکاروں کو 300 ارب معاف کرنے پر تحفظات کا اظہار

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان، پی اے ٹی سربراہ طاہر القادری اور تحریک لبیک کے خادم حسین رضوی نے دھرنے کی سیاست کی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست اور ایشوز کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کرتے ہیں۔

مسئلہ کشمیر سے متعلق بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر پی ٹی آئی حکومت کی نااہلی اور اس مسئلے پر کسی بھی طرح کی سودے بازی برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔ اس معاملے میں کسی بھی طرح کی کوتائی برداشت نہیں کی جائے گی۔

وزیراعظم عمران خان کو ہدف تنقید بناتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ‘نا اہل حکمران غلطی پر غلطی کر رہے ہیں، جبکہ حکومت غیر جمہوری رویے اپنا رہی ہے۔ نااہل وزیراعظم نے ملکی معیشت تباہ کی جبکہ وزیراعظم عمران خان کا یوٹرن لینا روز کا معمول بن گیا ہے۔ وزیراعظم اور اس کے پارٹی رہنماؤں کا کام صرف فوٹو سیشن کروانا ہے۔

چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ ’پورے مقبوضہ کشمیر کو ایک طرح کی جیل میں تبدیل کردیا گیا ہے، ہمارے وزیراعظم نے کشمیریوں کی آواز بننے کی کوشش ہی نہیں کی۔‘

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ان کا بیانیہ ایک ہی ہوگا، وہ کٹھ پتلی حکومت کو برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔ ان کی پارٹی ظلم برداشت کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن ہو اپنے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں لائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ایک نظریاتی پارٹی ہے، سندھ حکومت سمجھتی ہے کہ وہ ہمارے لوگوں پر مقدمات بنا کر ہمیں بلیک میل کرسکتی ہے۔ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں جگہ جگہ دل کا مفت علاج ملتا ہے۔ وسائل نہ ہونے کے باوجود حکومت سندھ مسائل کے حل کے لیے پوری کوشش کر رہی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کلین کراچی مہم میں کچرا ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ رکھ دیا گیا، جس کے باعث بارشوں کے دوران شہریوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ شہر قائد کے مسائل حل کرنے کے لیے سندھ حکومت کو لوکل گورنمنٹ اسٹرکچر پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔