جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

امریکا : کالعدم ٹی ٹی پی سربراہ سمیت متعدد افراد عالمی دہشت گرد قرار

افراد

واشنگٹن : امریکا نے پاکستان میں ہونے والے حملوں میں ملوث کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ مفتی نور ولی محسود سمیت متعدد افراد کو عالمی دہشت گرد قرار دے دیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق لبنان کی حزب اللہ، ایران کی پاسداران انقلاب، القاعدہ، فلسطین کی حماس، فلسطین اسلامک جہاد اور داعش سیمت دیگر تنظیموں سے وابستہ کئی افراد کو بھی عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکا : کالعدم ٹی ٹی پی سربراہ سمیت متعدد افراد عالمی دہشت گرد قرار

خیال رہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے سابق امیر ملا فضل اللہ کے 2018 میں ڈرون حملے میں مارے جانے کے بعد مفتی نور ولی محسود کو کالعدم تنظیم کا سربراہ بنایا گیا تھا۔

یاد رہے کہ مفتی نور ولی محسود کی قیادت میں کالعدم تحریک طالبان نے پاکستان میں کی جانے والی دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔

یاد رہے کہ امریکا نے گزشتہ ماہ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے ) کو بھی عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

بتاتے چلیں کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ افغانستان میں 18 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان سے ہونے والی بات چیت مکمل طور پر ختم (مردہ) ہو چکی ہے۔ افغان طالبان سے مذاکرات ختم کرنے کے بعد حالیہ پابندیاں لگائی گئی ہیں

وائٹ ہاؤس میں میڈیا نمائندگان سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ‘جہاں تک میرا تعلق ہے، یہ (مذاکرات) ختم (ڈیڈ) ہو چکے ہیں۔’

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہماری میٹنگ (کیمپ ڈیوڈ میں طالبان رہنماؤں سے ہونے والی خفیہ ملاقات) طے شدہ تھی۔ میٹنگ بلانے کا آئیڈیا بھی میرا تھا اور اس کو منسوخ کرنے کا بھی۔ یہاں تک میں نے کسی اور سے اس پر تبادلہ خیال نہیں کیا تھا۔’

صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ‘میں نے کیمپ ڈیوڈ میٹنگ کو اس بنیاد پر منسوخ کر دیا کیونکہ انھوں (طالبان) نے کچھ ایسا کیا تھا جو انھیں بالکل نہیں کرنا چاہیے تھا۔’

یہ بھی یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکہ اور افغان طالبان افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے ہونے والے معاہدے کے بظاہر بالکل قریب آ چکے تھے، تاہم کابل میں ہوئے ایک حملے کے بعد یہ معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔

کابل میں ہونے والے طالبان کے حملے میں ایک امریکی فوجی سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے تھےم جس کے بعد آٹھ ستمبر کو امریکی صدر نے اپنی ٹویٹس کے ذریعے طالبان سے مذاکرات منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ‘یہ کیسے لوگ ہیں جو اپنی سودے بازی کی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔’

ایک اور ٹویٹ میں انھوں نے کہا تھا کہ ‘جھوٹے مفاد کے لیے طالبان نے کابل حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ وہ مزید کتنی دہائیوں تک لڑنا چاہتے ہیں؟’

امریکی فوجی کی افغانستان میں ہلاکت کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف کیمپ ڈیوڈ میں طالبان رہنماؤں سے ہونے والی خفیہ ملاقات منسوخ کی تھی بلکہ افغان صدر سے گذشتہ اتوار کو طے شدہ ملاقات کی منسوخی کا اعلان بھی کیا تھا۔

متعلقہ خبریں