جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

پاکستان کا بھارتی صدر کا فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار

بھارتی صدر

اسلام آباد: پاکستان نے بھارتی صدر کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا بھارتی صدر کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار پر کہنا ہے کہ بھارتی حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے۔ بھارتی جنونیت کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان نے یہ فیصلہ کیا۔ وزیراعظم نے فیصلے کی منظوری دے دی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں بھارت پر پاکستانی فضائی حدود کی بندش کا مطالبہ کیا جارہا ہے، اس ضمن میں ترجمان دفتر خارجہ نے چند روز قبل اپنی بریفنگ میں کہا تھا کہ فضائی حدود کی بندش کا معاملہ زیر غور ہے، پر اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے بھی فضائی حدود کی بندش کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بندش کا فیصلہ وزیراعظم کریں گے۔ تاہم اس بار پاکستان نے بھارتی صدر کو فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت نہیں دی۔

 پابندی سے بھارت کو کیا نقصان ہوگا؟

پابندی کی صورت میں بھارت سے اڑنے والے یا باہر سے بھارت جانے والی مسافر یا کارگو پروازوں کو پاکستانی فضائی حدود سے باہر رہنا ہو گا اور ایسا کرنے کے لیے انہیں لمبہ راستہ اپنانا پڑے گا۔

جس کی وجہ سے ان پروازوں کا نہ صرف دورانیہ بڑھ جائے گا بلکہ ایندھن بھی زیادہ خرچ ہو گا اور ائیر لائنز کو مسافروں اور سامان کے کرائے بھی بڑھانا پڑیں گے۔

بھارت کے اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق وہ پروازیں جو پاکستان کی فضائی حدود میں سے گزرتی ہیں کا پابندی کی صورت میں دورانیہ اوسطا 70 سے 80 منٹ بڑھ جائے گا۔

پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ایک سینئیر اہلکار کا کہنا تھا کہ پاکستانی فضائی حدود میں 11 ایسے راستے ہیں جو بھارت آنے یا جانے والے جہاز استعمال کرتے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بھارت کی سرکاری ائیر لائن ائیر انڈیا کی کم از کم 50 پروازیں روزانہ پاکستان کی فضائی حدود میں سے گزرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : بھارت سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، فضائی حدود کی بندش زیر غور ہے : ترجمان دفتر خارجہ

ایجنسی کو تحقیق سے پتا چلا کہ گزشتہ پابندی کے دوران بھارت کی کم از کم 113 پروازیں ایسی تھیں، جنھیں مستقل طور پر لمبے راستے سے آنا جانا پڑتا تھا۔

بھارت سے دنیا کے مغربی حصوں کو جانے والی تقریباً تمام پروازیں پاکستان پر سے گزر کر جاتی ہیں اور پابندی کی صورت میں بھارت اور یورپ، امریکہ اور مشرق وسطی کے درمیان چلنے والی بھارتی پروازیں متاثر ہوں گی۔

بھارتی اخبار کے مطابق بھارت کے شمال میں واقع شہروں جیسے دلی، امرتسر، چندی گڑھ، جے پور اور لکھنو سے یورپ، شمالی امریکہ اور مغربی ایشیا کے ممالک کو جانے والی پروازوں کو جنوب میں گجرات یا مہاراشٹرا سے ہو کر دائیں طرف بحیرہ عرب کی طرف مڑنا پڑے گا۔

بھارت کے سول ایوی ایشن کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے گزشتہ مہینے راجیہ سبہا (بھارتی ایوان بالا) کو بتایا تھا کہ چار ماہ کی پاکستانی فضائی پابندی کی وجہ سے ملک کی ہوا بازی کی صنعت کو 430 کروڑ بھارتی روپوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔

متعلقہ خبریں