سانحہ ساہیوال : مقتولین کے ورثاء نے پولیس اہلکاروں کو پہچاننے سے انکار کردیا

اہلکاروں

لاہور : انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سانحہ ساہیوال سے متعلق کیس کے دوران ورثاء نے پولیس اہلکاروں کو پہنچانے سے انکار کردیا ہے۔

انسداد دہشتگردی کی عدالت میں سانحہ ساہیوال سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی اور دوران سماعت کیس میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی۔ مقتولین کے ورثاء نے پولیس اہلکاروں کو پہچاننے سے انکار کردیا۔

یہ بھی پڑھیں : مقبوضہ کشمیر کے کرفیو کو 38 روز گزرگئے، قابض فوج کا پرتشدد رویہ برقرار

مقتول خلیل کے بھائی نے کہا کہ میں موقع پر موجود نہیں تھا، اسی لیے مجھے نہیں معلوم کہ کون سے اہلکار تھے۔ مقتول خلیل کے بیٹے نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ میرے والدین پر کن پولیس والوں نے گولیاں چلائیں۔

کیس میں صفدر حسین، سیف اللہ سمیت 12 گواہان کے بیانات قلمبند ہوچکے ہیں۔ عدالت میں واقعہ میں ملوث تمام پولیس اہلکاروں کو پیش کیا گیا۔ مقتول ذیشان کے بھائی احتشام کا بیان بھی ریکارڈ کیا گیا۔

یاد رہے کہ رواں برس 19 جنوری کو سی ٹی ڈی نے ساہیوال میں کارروائی کرتے ہوئے ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ہلاک ہونے والوں میں ذیشان، خلیل، خلیل کی اہلیہ نبیلہ اور ان کی بیٹی اریبہ شامل تھی۔

فائرنگ کے دوران ایک بچہ گولی لگنے اور ایک بچی شیشہ لگنے سے زخمی بھی ہوئے۔ ہلاک ہونے والے خلیل اور نبیلہ بچ جانے والے تین بچوں کے والدین تھے، جبکہ اریبہ ان بچوں کی بڑی بہن تھی جو ساتویں جماعت کی طالبہ تھی۔ اور ان کے ساتھ موجود ذیشان ان کا محلے دار تھا۔

ذیشان بطور ڈرائیور خلیل کے خاندان کے ساتھ گیا تھا، جسے سی ٹی ڈی نے دہشتگرد قرار دیا۔

وفاقی اور صوبائی حکومت نے متاثرین کو انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی تو کروائی تھی، لیکن تاحال ان کو انصاف نہیں ملا اور آج عدالت میں سماعت کے دوران مقتولین کے لواحقین نے ملزمان کو پہنچاننے سے انکار کر دیا ہے۔