جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

چونیاں سے ایک اور بچے کی باقیات برآمد

باقیات

چونیاں : چونیاں کے انڈسٹریل ایریا سے ایک بچے کی باقیات برآمد کرلی گئی ہے۔

ضلع قصور کی تحصیل چونیاں کے انڈسٹریل ایریا سے ایک اور بچے کی باقیات برآمد کرلی گئی ہے۔  بچے کی باقیات سابقہ کرائم سین سے آدھے کلومیٹر کے فاصلے سے ملی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس بات کی تصدیق نہیں کی جاسکتی ہے کہ ملنے والی باقیات چوتھے بچے عمران کی ہے یا کہ کسی پانچویں بچے کی۔

پولیس کے مطابق ڈی این اے کے ذریعے ہی حقائق کا علم ہوگا،

یاد رہے کہ بچوں کے قتل کے بعد چونیاں سے فرار مشتبہ شخص کو رحیم یار خان سے حراست میں لینے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

پولیس نے مبینہ ملزم شہزاد نامی شخص کو تھانہ کوٹ سمابہ کے علاقہ میں کارروائی کے بعد حراست میں لیاتھا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم فیضان کے قتل کے بعد پولیس کاروائیوں سے بچنے کے لیے فرار ہوا تھا۔ مبینہ ملزم پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ قصور منتقل کیا گیا۔

آئی جی پنجاب عارف نے ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ مبینہ مرکزی ملزم شہزاد احمد کا فوری ڈی این اے کروایا جا رہا ہے۔ ڈی این اے رپورٹ کے بعد حتمی طور پر کچھ کہا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ پنجاب کے ضلع قصور کی تحصیل چونیاں سے چند روز قبل ایک کمسن بچے کی لاش اور دو کے باقیات ملے تھے، جن میں سے ایک کی شناخت فیضان کے نام سے ہوئی، جبکہ 2 لاشیں ناقابل شناخت ہونے کے باعث ٹیسٹ کیلئے لیبارٹری بھیج دی گئی تھیں، لاشوں کی شناخت کیلئے شہر سے اغواء ہونیوالے بچوں کے والدین کے ڈی این اے سیمپل بھی لیبارٹری بھجوائے گئے۔

فیضان نامی کمسن بچے کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا۔ زیادتی کا شکار بننے والے بچوں کے کیس میں پولیس نے 25 مشکوک افراد کوحراست میں لیا تھا۔

چونیاں میں لاپتہ چوتھے بچے عمران کی موت کی بھی تصدیق ہوگئی تھی، اس طرح چونیاں میں اغوا کے بعد قتل کیے گئے بچوں کی تعداد چار ہوگئی تھی۔

ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت نے عمران کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مقتول عمران کے کپڑوں کی شناخت اس کے والدین اور درزی نے کی ہے۔

ڈی پی او قصور کے مطابق فرانزک لیب کے عملے نے سات سو افراد کے ڈی این اے نمونے لیے گئے، جن میں سے تین سو افراد کو کلیئر کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ عمران کو تین ماہ قبل رانا ٹان سے اغوا کیا گیا تھا، جس کے کپڑے دیگر تین بچوں کی باقیات کے قریب کھنڈرات سے ملے تھے جبکہ عمران کی موت کی تصدیق کے بعد والدین شدت غم سے نڈھال ہیں۔

متعلقہ خبریں