جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

ڈاکٹروں نے صحت بہتر قرار نہیں دی : ایم ایس | حالت بدستور تشویشناک ہے : ذاتی معالج

لاہور : ایم ایس سروسز اسپتال کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی صحت بہتر نہیں ہے، اگر جانا چاہیں تو درخواست کرسکتے ہیں مگر صحت اتنی بہتر نہیں۔ ذاتی معالج کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی حالت بدستور تشویشناک ہے۔

ایم ایس سروسز اسپتال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کی صحت بہتر نہیں ہے۔ پلیٹ لیٹس بڑھ گئے مگر ابھی نارمل نہیں ہیں۔ نوازشریف کو واک کروائی گئی، تاکہ جان سکیں کہ سفر کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ ڈاکٹروں نے ابھی ان کی صحت بہتر قرارنہیں دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف اگر جانا چاہتے ہیں تو درخواست کرسکتے ہیں، مگر ڈاکٹروں کی نظر میں ان کی صحت ابھی بہتر نہیں ہے۔ اس لیے نوازشریف خود بھی نہیں جارہے ہیں۔ پلیٹ لیٹس ڈیڑھ لاکھ سے بڑھیں گے تو ہی فٹ قراردیا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گردوں کے مسائل حل کرنے کے لیے اسٹیرائیڈز دئیے جارہے ہیں۔

ذرائع میڈیکل بورڈ کے مطابق نواز شریف کو انجیکشنز بند کردئیے ہیں، اب اسٹیرائیڈز گولی کی صورت میں دی جارہی ہیں اور شوگر کنٹرول کرنے کے لیے انسولین دی گئی ہے۔ نوازشریف چاہیں تو سفر کرسکتے ہیں مگر وہ علاج سے مطمئن ہیں۔

میڈیکل بورڈ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹ اسکین باڈی سکین اور بائی آپسی کا ابھی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ پلیٹ لیٹس کی تعداد بہتر ہے، جو پہلے اکیاون ہزار تھے مگر اب پھر کم ہو کر چھتیس ہزار ہوگئے ہیں۔ پلیٹ لیٹس تیس ہزار سے نیچے ہوں تو صحت کے لیے خطرے کی علامت نہیں۔

دوسری طرف سابق وزیراعظم نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کا کہنا ہے نواز شریف کے پیچیدہ امراض قلب نے ان کی بیماری کو مزید گھمبیر کر دیا ہے۔

نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ نواز شریف کی حالت بدستور تشویشناک ہے۔

ڈاکٹر عدنان نے بتایا کہ میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کو اسٹیرائیڈ کم کرنے کی کوشش کی، تو ان کے پلیٹ لیٹس گر گئے، گزشتہ روز نواز شریف کے پلیٹ لیٹس 38 ہزار تک آ گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے پلیٹ لیٹس گرنے کی وجوہات کی فوری تشخیص ضروری ہے، اس صورتحال میں دواؤں کا توازن قائم رکھنا بہت حساس معاملہ ہے۔

ڈاکٹر عدنان نے مزید کہا کہ نواز شریف کے پیچیدہ امراض قلب نے ان کی بیماری کو مزید گمبھیر کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں