اسٹار کرکٹرز نے پی سی بی کے نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر کی حمایت کردی

ڈومیسٹک اسٹرکچر

لاہور : قومی کرکٹ ٹیم کے موجودہ اور سابق کرکٹرز نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر کی حمایت کردی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے دلچسپ اور سنسنی خیز ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر 20-2019 کی رونمائی ہوچکی ہے۔

سابق کرکٹر عاقب جاوید نئے ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر کے مداح ہیں۔ عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ ماضی میں پی سی بی کے ڈومیسٹک اسٹرکچر میں چند خامیاں تھی۔ پی سی بی کی جانب سے خامیوں پر قابو پاکرنیا ڈومیسٹک اسٹرکچر متعارف کروانا کھیل کے معیار میں بہتری لائے گا۔

سابق فاسٹ بولر نے کہا کہ پی سی بی کا نیا ڈومیسٹک اسٹرکچر ایک کرکٹر کے خوابوں کی تعبیر ہے۔ ڈومیسٹک کرکٹ کا گزشتہ نظام کھیل کے معیار کی بجائے مقدار پر مبنی تھا۔ ہمیں وہ پیچیدہ نظام لوگوں کو سمجھانے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

سابق کرکٹر اور کرکٹ مبصر غلام علی بھی ڈومیسٹک کرکٹ میں تبدیلیوں پر سنجیدگی سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔

غلام علی کا کہنا ہے کہ نئے نظام پر چند تحفظات ضرور تھے، تاہم پی سی بی کی جانب سے متعارف کروایا گیا نیا نظام مثبت تبدیلیاں لائے گا۔ محض 6 ٹیموں کی موجودگی سے سیزن 20-2019 میں مقابلے کی فضاء بڑھے گی جو مستقبل میں قومی کھلاڑیوں کو بین الاقوامی کرکٹ کی تیاری میں مددگار ثابت ہوگی۔

سابق کرکٹر اور کمنٹیٹر رمیز راجہ نے نئے ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر کو متعارف کروانے پر پی سی بی کو مبارکباد پیش کی ہے۔ وہ پرامید ہیں کہ نیا نظام کھلاڑیوں کے انتخاب میں شفافیت کا عمل لائے گا۔

رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ پی سی بی کی جانب سے ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر میں تبدیلیاں کرنا جرات مندانہ قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ نظام قومی کرکٹرز کی کارکردگی میں تسلسل لانے میں ناکام رہا ہے، یہاں شہروں اور صوبائی کرکٹ کو ترجیح دی جائے گی۔

سابق کرکٹر نے کہا کہ تمام کرکٹ ایسوسی ایشنز کے انتظامی امور ماہرانہ طریقے سے نمٹانے ہوں گے۔ سابق کرکٹرز کو ایسوسی ایشنز کے ساتھ مل کر انتظامی امور نمٹانے چاہیے تاکہ احتساب کے عمل کو فروغ دیا جاسکے۔

رمیز راجہ نے کہا کہ پی سی بی کو ڈومیسٹک کرکٹ کی نشریاتی منصوبہ بندی بھی واضح جلد کردینی چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ شائقین کرکٹ کی توجہ حاصل کی جاسکے۔

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نظام فرسٹ کلاس کرکٹ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اب کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا ہوگی۔

مزید پڑھیں : پی سی بی نے مصباح الحق کو قومی ٹیم کا ہیڈ کوچ، وقار یونس کو بولنگ کوچ مقرر کردیا

شاہد آفریدی نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ کا یہ نظام مقدار کی بجائے معیار پر مبنی ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں فرسٹ کلاس کرکٹ بہت آسان ہوگئی تھی، تاہم محض 6 ٹیموں پر مشتمل اس نظام سے معیاری کرکٹرز سامنے آئیں گے۔

سابق کپتان نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے نظام میں کھلاڑیوں کو اپنا کنٹریکٹ برقرار رکھنے کے لیے سخت محنت کرنا ہوگی۔ نئے دومیسٹک اسٹرکچر کی افادیت کو جانچنے کے لیے 3 سے 4 سال کا عرصہ دینا چاہیے۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ فی الحال کھلاڑیوں کے مالی استحکام کے لیے یہ ایک بہترین نظام ہے۔ میں تمام کھلاڑیوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں۔

راشد لطیف نئے ڈومیسٹک نظام کو 2 سے 3 سال دینے کے حامی ہیں۔ راشدلطیف کا کہنا ہے کہ میری نیک تمنائیں پی سی بی کے ساتھ ہیں۔ ڈیپارٹمنل کرکٹ کا خاتمہ بہت سے لوگوں کے لیے تکلیف دہ ہے تاہم نئے نظام کی تیاری میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے بہت محنت کی ہے۔

قومی کرکٹر سرفراز احمد نے نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر کو سنسنی خیزقرار دیا ہے۔ 49 ٹیسٹ ، 114 ایک روزہ اور 55 ٹی ٹونٹی میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے سرفراز احمد ڈومیسٹک کرکٹ کا بھی وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

سرفراز احمد149 فرسٹ کلاس، 194 لسٹ اے اور 181 ٹی ٹونٹی ڈومیسٹک میچوں میں شرکت کرچکے ہیں۔ سرفراز احمد ڈومیسٹک کرکٹ میں کراچی ڈولفنز، کراچی ہاربر، سندھ اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نمائندگی کرچکے ہیں۔

سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ ڈومیسٹک سیزن 20-2019 سنسنی خیز ہوگا۔ سلیکٹرز آئندہ سیزن کے لیے مضبوط ٹیمیں بنا رہے ہیں۔ نئے نظام میں سیکنڈ الیون ٹیموں کی شمولیت ایک دلچسپ امرہے۔ سیکنڈ الیون میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کو فرسٹ الیون میں نمائندگی کا موقع ملے گا۔

کرکٹر اظہر علی کاکہنا ہے کہ ڈومیسٹک اسٹرکچر میں تبدیلی سے آئندہ سیزن میں بہترین مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔

اظہر علی پاکستان کی جانب سے 73 ٹیسٹ میچوں میں 43.27 کی اوسط سے 5669 رنز بناچکے ہیں۔ ان کے ٹیسٹ کیریئر میں 15 سنچریاں اور 31 نصف سنچریاں شامل ہیں۔

اظہر علی 187 فرسٹ کلاس، 171 لسٹ اے اور 49 ٹی ٹونٹی ڈومیسٹک میچوں میں شرکت کرچکے ہیں۔ اظہر علی لاہور، خان ریسرچ لیبارٹری اور قومی اے کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ اس موقع پر

قومی کرکٹر اظہر علی کا کہنا ہے کہ ڈومیسٹک سیزن 20-2019 کے آغاز سے قبل بہت پرجوش ہیں۔ ٹیموں اور میچوں کی تعداد کم ہونے سے کھیل کے معیار میں بہتری آئے گی۔ نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر سے کرکٹرز کے کھیل میں نکھار آئے گا۔