کراچی کو کمیٹیوں کے علاوہ کچھ نہیں ملا، شہر آئی سی یو میں پڑا ہے : وسیم اختر

کمیٹیوں

کراچی : وسیم اختر نے کہا ہے کہ وفاق آگے بڑھے کراچی کے مسئلے کو حل کرے، کہ شہر کے لوگ پریشان ہیں، کراچی آئی سی یو میں پڑا ہے، اسے فوری علاج کی ضرورت ہے۔ کراچی کو کمیٹیوں کے علاوہ کچھ نہیں ملا۔

ایم کیو ایم کے رہنماء اور میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ کراچی کے تین کروڑ لوگ اس وقت مشکل میں ہیں۔ 6 ماہ سے کوشش کر رہے ہیں کہ وفاق آگے بڑھے کراچی کے مسئلے کو حل کرے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس شہر کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ اگر سندھ نہیں تو کم از کم وفاق ہی آگے بڑھے۔ دو تین میٹنگ وزیراعظم اور کیبنٹ ممبرز سے کرچکا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں : گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ کی مزار قائد پر حاضری، کراچی میں ایک ہی اتھارٹی لازمی ہے : گورنر سندھ

انہوں نے کہا کہ شہر کے بیشتر ایشوز فوری حل طلب ہیں۔ آج کراچی کے ایشوز کو فوری حل چاہیے۔ اس شہر کو فنڈز اور گرانٹس چاہیے۔ کسی کے ذریعے بھی خرچ کرائیں۔ مسائل ہمیں پتہ ہیں، کچرا اور بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ کراچی کو کمیٹیوں کے علاوہ کچھ نہیں ملا، کسی جانب سے سنجیدگی نظر نہیں آرہی ہے۔

میئر کراچی نے کہا کہ کراچی کے لوگ پریشان ہیں، ان کے مسئلے حل ہونے چاہییں۔ وفاقی حکومت سمجھ لے کہ کراچی کو آج گرانٹ ملے گی تو نتیجہ ایک سال بعد ملے گا۔ کراچی ٹیکس دیتا ہے اسے اس کا حق دیا جائے۔ کراچی کو کمیٹیوں کی نہیں بلکہ فوری وسائل کی ضرورت ہے۔  

وسیم اختر کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے نہیں سنی تو وفاقی حکومت کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر وہاں سے بھی کچھ نہ ملا۔ آئین میں موجود ہے کہ وفاق عوامی بھلائی کیلیےصوبے میں مداخلت کرسکتا ہے۔ کراچی اور حیدرآباد کے عوام انتظار کر رہے ہیں کہ وزیر اعظم صاحب اپنا وعدہ پورا کریں۔ اگر کسی کی یہ سوچ ہے کہ نئے بلدیاتی انتخابات کے بعد فنڈز دیے جائیں تو یہ کراچی دشمنی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کراچی کو سیاست سے باہر رکھیں۔ وزیراعظم خود یہاں آئیں، اس شہر کو فنڈز دیں۔ آج کراچی آئی سی یو میں پڑا ہے، اسے فوری علاج کی ضرورت ہے۔ ہم ہر فورم پر بات کرنے کو تیار ہیں۔ کراچی کی ترقی کو چھوڑیں ہم تو مینٹین بھی نہیں کرسکتے ہیں۔

میئر کراچی نے کہا کہ کراچی کے کچرے کو سنجیدہ لینا چاہیئے، ہم تین سال سے تبدیلی کی خواہش کررہے ہیں۔ حکومت کو بتارہے ہیں کہ کون کون سے محکمے ہمارے پاس ہونے چاہیے۔