کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام کو بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا

نیو دہلی : کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام کو بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 370 میں ترمیم کو بھرتی سپریم کورٹ چیلنج کردیا گیا ہے۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ انڈیا سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے معاملہ پر ازخود نوٹس لینے کی درخواست دائر کی گئی ہے۔ جوڈیشل ایکٹوازم پینل کے سربراہ اظہر صدیق نے 370 اے کی منسوخی کیخلاف قانونی چارہ کا اعلان کیا ہے۔

درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ جموں کمشیر اسمبلی پہلے قرارداد منظور کرے گی، پھر ترمیم کی جاسکے گی، گورنر کے ذریعے یہ تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ حالیہ کی گئی ترمیم اپنے اختیارات سے تجاوز اور بدنیتی پر مبنی ہے۔ انڈین سپریم کورٹ بھی ارٹیکل 370 میں اس طرح سے کی گئی ترامیم کو کلعدم قرار دے چکی ہے۔

درخواست گزار کے مطابق اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت جموں کشمیر انڈیا کا حصہ نہیں ہے۔ ترمیم 2 جولائی 1972 کو کیے گیے شملہ معاہدے، لاہور معاہدہ 21 فروری 1999 کی بھی خلاف ورزی ہے۔ ارٹیکل 370 میں کی گئی ترمیم آئین انڈین 1950 سے متصادم ہے۔

جوڈیشل ایکٹوازم پینل نے عالمی وکلاء کی خدمات حاصل کرلیں ہیں۔ وکلاء میں بیرسٹر ایم این بیگ، بیرسٹر امجد ملک اور بیرسٹر محسن ملک کی خدمات لی گئی ہیں۔

اظہر صدیق ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ بھارت کا 370 اے کو منسوخ کرنے کا فیصلہ، عالمی معاہدوں اور خود بھارتی آئین کی خلاف ورزی ہے۔ جوڈیشل ایکٹوازم پینل نے 370 اے کو چیلنج کرنے کیلئے بھارتی سپریم کورٹ کو چٹھی بھیج دی۔

انہوں نے کہا کہ 370 اے پر فیصلے کو چیلنج کرنے کیلئے بھارتی سپریم کورٹ کے رجسٹرار سے طریقہء کار میں معلومات مانگ لیں ہیں کہ کیا پاکستانی وکلاء بھارتی سپریم کورٹ میں پیش ہوسکتے ہیں۔