شنیرا اکرم کا کلفٹن کا ساحل بند کرنے کا مطالبہ

ساحل

کراچی : قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کی اہلیہ شنیرا اکرم نے کراچی کلفٹن کے ساحل خطرناک صورتحال کی وجہ سے عوام کیلئے بند کرنے کا مطالبہ کردیا۔

منگل کو سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں کہا کہ گزشتہ چار سال سے سی ویو کلفٹن پر چہل قدمی کررہی ہوں، لیکن اتنی خطرناک صورتحال کبھی نہیں دیکھی ہے۔

مزید پڑھیں : ماحولیاتی آلودگی کے خلاف لاہور ہائی کورٹ بڑا فیصلہ، گھروں میں درخت لگانا لازمی قرار

انہوں نے انتظامیہ سے درخواست کی کہ کراچی کلفٹن کے ساحل پر اسپتال کا استعمال شدہ فضلا اور سرنجیں بہت بڑی تعداد میں پڑی ہیں، جس سے عوام میں ایڈز اور دیگر خطرناک بیماریاں پیدا ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سی ویو انتہائی خطرناک ہوچکا ہے، اس سے پہلے کہ یہ فضلا ریت میں دفن کردیا جائے، انتظامیہ کو فوری ایکشن لینا چاہیے۔

 شنیرا اکرم نے کہا کہ گزشتہ روز معمول کے چہل قدمی کے دوران 10 منٹ کے اندر درجن استعمال شدہ سرنجیں ملیں۔ انتظامیہ سے درخواست ہے کہ کلفٹن ساحل کو عوام کیلئے بند کرکے صفائی ستھرائی کا کام شروع کیا جائے۔

خیال رہے کہ کراچی میں ماحولیاتی آلودگی خطرناک صورتحال اختیار کرگئی، موسمیاتی تبدیلی اور گرم موسموں کی یلغار نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا، درختوں کی شدید کمی شہر کے ماحولیاتی مستقبل کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے، آکسیجن کی کمی، کاربن ڈائی آکسائڈ کی زیادتی اور گرد و غبار سے صحت کے مسائل جنم لے رہے ہیں، درخت نہ لگائے گئے تو ہر آنے والا سال گذشتہ سال سے زیادہ گرم ہوگا۔

ماحولیاتی آلودگی کے نتیجے میں شہر کو مستقبل میں ناقابلِ برداشت گرم موسم، موذی امراض، آکسیجن کی کمی، کاربن ڈائی آکسائڈ کی زیادتی، زہریلا دھواں، گرد و غبار اور بارشوں میں کمی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، کراچی میں چند سال قبل ہیٹ اسٹروک کا شکار ہوکر 1300افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

تحقیق کے مطابق ایک درخت سال بھر میں اوسطاً 22کلو کاربن ڈائی آکسائڈ جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، چار افراد کو یومیہ آکسیجن فراہم کرتا ہے، ہوا کو کثافت سے پاک کرتا ہے، درخت اور پودے ہوا میں نمی پیدا کرتے ہیں جوکہ بادل بن کر بارش کی صورتمیں برستے ہیں،گھنے درخت ٹھنڈی چھائوں، سبزہ اور ٹھنڈک کا سبب بنتے ہیں۔