ہتک عزت کا دعویٰ ٹھوس شواہد اور حقائق پر مبنی ہے : میشا شفیع

لاہور : میشا شفیع نے علی ظفر کی درخواست پر جواب جمع کرادیا ہے، جس میں مؤقف اپنایا ہے میرا ہتک عزت کا دعوی ٹھوس شواہد اور حقائق پر مبنی ہے۔ علی ظفر عدالت میں اپنا مؤقف بیان کریں میں اپنا بیان کررہی ہوں۔

علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع کا ہتک عزت کا دعوی روکنے کی استدعا کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ میشا شفیع نے علی ظفر کی درخواست پر جواب جمع کروا دیا۔

میشا شفیع نے مؤقف اختیار کیا اداکار علی ظفر میرا ہتک عزت کا دعوی رکوا کر عدالتی وقت ضائع کرنا چاہتے ہیں۔ میرا ہتک عزت کا دعوی ٹھوس شواہد اور حقائق پر مبنی ہے۔ علی ظفر عدالت میں اپنا مؤقف بیان کریں میں اپنا مؤقف بیان کررہی ہوں۔

میشا شفیع نے جواب میں کہا ہے کہ یہ غلط بات ہے کہ میں نے می ٹو کی فنڈنگ بیرون ملک سے وصول کی۔ انہوں نے استدعا کی عدالت علی ظفر کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے دونوں دعوؤں پر حکم جاری کرے۔

واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے اداکارہ میشا شفیع کی درخواست پر محفوظ سناتے ہوئے گورنر پنجاب کے میشاء شفیع کی حراسگی اپیل کو مسترد کرنے کے فیصلے کے خلاف درخواست خارج کردی تھی۔

جسٹس شاہد کریم نے گورنر پنجاب کے میشاء شفیع کی اپیل مسترد کرنے کے فیصلے کو بحال رکھا۔

میشا شفیع نے گورنر پنجاب اور محتسب کے فیصلے کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔ بیرسٹر احمد پنسوتہ اور ثاقب جیلانی کے ذریعے ہائیکورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اپنایا تھا کہ گورنر پنجاب نے جنسی ہراسگی کے خلاف اپیل مسترد کر دی۔

درخواست کے مطابق صوبائی محتسب کو اپیل کیلئے مناسب فورم قرار نہ دیتے ہوئے اپیل مسترد کی۔ جنسی ہراسگی کیلئے مالک اور ملازم ہونا ضروری نہیں ہے۔ کام کی جگہ پر جنسی ہراسگی کے خلاف صوبائی محتسب سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ عدالت عالیہ گورنر پنجاب کے اپیل مسترد کرنے کا اقدام کالعدم قرار دے۔

میشا شفیع اور علی ظفر میں بظاہر نہ ختم ہونے والی قانونی جنگ جاری ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال 19 اپریل کو میشا شفیع نے ایک ٹوئٹر پیغام میں علی ظفر پر جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔