جی ٹی وی نیٹ ورک
کھیل

ہیڈ کوچ کے معاوضے کے انتخاب پر پی سی بی تذبذب کا شکار

ہیڈ کوچ

لاہور: پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کے لیے رقم کے انتخاب پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) تذبذب کا شکار ہوگیا۔ مصباح الحق مکی آرتھر کی طرح بھاری معاوضے کے خواہاں ہیں۔

مزید پڑھیں : پاکستانی ٹیم کو مقامی کوچ اور مینٹور کی ضرورت ہے : مصباح الحق

ذرائع کا کہنا ہے کہ مصباح الحق کو بھاری معاوضہ دینے یا نہ دینے پر پی سی بی میں غور و فکر جاری ہے۔ مصباح الحق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں کسی فرنچائز کے ساتھ ذمہ داری نبھانے پر بھی متفق نہیں ہیں۔

ذرائع کے مطابق پی سی بی عام طور پر ملکی کوچز کو غیر ملکی کوچز کے برابر معاوضہ دینے کا قائل نہیں۔ سابق کوچ مکی آرتھر کو ماہانہ 20 ہزار ڈالر ماہانہ معاوضہ ملتا تھا، تاہم پی سی بی اتنی رقم کسی پاکستانی کوچ کو دینے میں دلچسپی نہیں رکھتا ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم میں ہیڈ کوچ کی پوزیشن کے لیے ڈین جونز سمیت کئی نامور شخصیات نے درخواستیں دے رکھی ہیں۔

واضح رہے کہ سابق کپتان مصباح الحق پاکستان کے ہیڈ کوچ کے لئے درخواست جمع کراچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی کوچز کے ذریعے پاکستانی ٹیم سے بہترین نتائج نہیں مل سکتے ہیں۔

سابق کپتان نے کہا تھا کہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی بھی کوچ جان بوجھ کر ٹیم کو تباہ کرتا ہے۔ لیکن ہمارا ایک کلچر ہے۔ اور ہمارے کھلاڑیوں کی الگ ہی سوچ ہوتی ہے۔ جس کے مطابق ہی وہ اچھی کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ باب وولمر ہوں یا مکی آرتھر دونوں نے اپنی صلاحیتوں سے ٹیم کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی، لیکن نتائج کچھ اور ہی بتاتے ہیں۔ اگر انہیں کوچ کا عہدہ ملا تو وہ اپنے تجربے سے ٹیم کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کریں گے۔

یاد رہے کہ سات اگست کو بورڈ نے اعلامیہ جاری کیا تھا جس کے مطابق چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے کرکٹ کمیٹی کی سفارشات منظور کرتے ہوئے ہیڈ کوچ مکی آرتھر، بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور، بولنگ کوچ اظہر محمود اور ٹرینر گرانٹ لڈن کے کنٹریکٹ میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

فیصلہ کرکٹ کمیٹی کے اراکین نے متفقہ طور پر کیا، خالی ہونے والے چاروں عہدوں پر نئی تعیناتیوں کے لیے پی سی بی نے اشتہار بھی جاری کیا۔

اعلامیے میں چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ کمیٹی نے قومی کرکٹ ٹیم کے لیے نئے کوچنگ اسٹاف کی تعیناتی پر مکمل اتفاق کیا ہے اور یہ کمیٹی کمیٹی تجربہ کار اراکین پر مشتمل ہے۔

انہوں نے تمام کوچز کے مستقبل کے لیے نیک تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی سی بی قومی کرکٹ کی بہتری کے لیے فیصلے کرتا رہے گا۔

متعلقہ خبریں