جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

شاہد خاقان عباسی نے سلمان شہباز کے ایماء پر 20 ارب روپے کی سبسڈی دی : شہزاد اکبر

سلمان شہباز کے ایماء

اسلام آباد : شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ شاہد خاقان نے سلمان شہباز کے ایماء پر 20 ارب روپے کی سبسڈی دی، شاہد خاقان پر چارج شیٹ ہے، سوالوں کے جواب دینے پڑیں گے۔

اسلام آباد میں معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بار ہوا کہ کسی معاملہ پر انکوائری کمیشن بنایا گیا اور جیسے ہی رپورٹ آئی اس کو پبلک کیا گیا ہو۔ رپورٹ میں مسلم لیگ (ن) کے کارناموں کی بہت داستانیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے سبسڈی کی نہیں ایکسپورٹ کی اجازت دی۔ جب ایکسپورٹ کی اجازت دی گئی تو اس وقت بھی عالمی منڈی میں قیمت زیادہ تھی۔ شاہد خاقان نے رپورٹ سے متعلق جو کہا میں ثابت کروں گا کہ جھوٹ ہے۔ ملک میں 2017-18 میں وافر مقدار میں گنے کی پیداوار ہوئی۔ مخصوص لوگ یہ رپورٹ سمجھنا چاہتے نہیں اور قوم کو گمراہ کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : کمیشن نے حقائق نہیں بتائے، چینی بحران کے ذمے دار وزیر اعظم عمران خان ہیں : شاہد خاقان عباسی

ان کا کہنا تھا کہ سفید جھوٹ بولتے سنتا ہوں تو حیران ہوجاتا ہوں۔ شاہد خاقان نے سلمان شہباز کے ایماء پر 20 ارب روپے کی سبسڈی دی۔ شاہد خاقان کمیشن کے سامنے نہ کوئی جواب دے سکے نہ کوئی دستاویز دے سکے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ شاہد خاقان پر چارج شیٹ ہے، سوالوں کے جواب دینے پڑیں گے۔ اگر قیمت کا تعین ٹھیک ہوتا تو 7 ارب کی سبسڈی دی جاسکتی تھی۔ شریف گروپ کی بہت ملیں ہیں لیکن صرف ایک مل کا آڈٹ کیا گیا۔ شریف خاندان کی مل کی جانب سے خریدا گیا 1.3 ارب روپے کا گنا دکھایا ہی نہیں گیا۔

معاون خصوصی نے کہا کہ جو چینی اس گنے سے بنی وہ بھی بلیک مارکیٹ کی نذر ہوئی۔ شریف خاندان کی شوگر مل میں 2 کھاتے پائے گئے۔ العربیہ شوگر مل میں کچی پرچی پر گنا خریدا جاتا تھا اور مل نے حکومت کے لیے الگ اور مالک کے لیے الگ کھاتا رکھا ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے بطور وزیر اعلیٰ  سبسڈی اپنے خاندان کی ملز کو ہی دی۔ اور یہ ان کے علم میں تھا کہ وہ سبسڈی اپنے بیٹے کی مل کو دے رہے ہیں۔ کسان کو شریف خاندان کی ملز سے گنے کی قیمت بھی کم دی جارہی تھی۔ آپ خادم اعلیٰ تھے لیکن آپ نے اپنی ہی تجوریاں بھریں۔ کمیشن کی رپورٹ میں کسی بھی معافی یا بچایا نہیں گیا۔

متعلقہ خبریں