جی ٹی وی نیٹ ورک
اسلام آباد

آغا سراج درانی کی گرفتاری پر اپوزیشن کا قومی اسمبلی میں احتجاج

اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی گرفتاری کے خلاف پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی میں احتجاج کیا۔
پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا پارلیمنٹ سربراہ کو گھسیٹا جائے تو کیا جگ ہنسائی نہیں ہوگی؟ سیاستدانوں کے علاوہ اور کسی کا احتساب نہیں ہوتا، ہم ایک دوسرے کیلئے ہی مصیبت بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا جس طرح سراج درانی گرفتار ہوئے، یہ نیا پاکستان ہے؟ سپیکر صاحب! یہ نیا پاکستان ہے، آپ کو بھی ڈرنا چاہیئے، ہوسکتا ہے کل آپ وزیراعلیٰ کو بھی پکڑ لیں، جمہوریت کیلئے پیپلزپارٹی نے عوام کیساتھ ملکر جہدوجہد کی۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر تعلیم شفقت محمود کے خطاب کے موقع پر اپوزیشن ارکان راجا پرویز اشرف، شازیہ مری سمیت دیگر ارکان نے احتجاج کیا۔ اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی گرفتاری اور احتساب کی یکطرفہ کارروائیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے ڈائس کا گھیراؤ کر لیا۔ اپوزیشن نے اسپیکر کی ہدایت نظر انداز کرتے ہوئے ڈیسک زور دار طریقے سے بجانا شروع کر دیئے اور سیاہ پٹیاں باندھ کرحکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔
اپوزیشن ارکان نے احتساب کا کالا قانون نامنظور، ہم نہیں مانتے ظلم کے ضابطے کے نعرے لگائے گئے۔ ایوان میں اپوزیشن کے شدید احتجاج کے دوران ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کر رہا تھا۔ اسپیکر سندھ اسمبلی کی گرفتاری کے معاملے پر حکومت کی طرف سے سابق اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا جواب دینا چاہتی تھیں۔ اپوزیشن کی طرف سے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بات کرنا چاہتے تھے۔ دوسری طرف مراد سعید ڈاکٹر شیریں مزاری ایک ساتھ بولنے لگے اور کہا کہ سابقہ اسپیکر کو بات کرنے دی جائے۔ اپوزیشن نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ شاہد خاقان عباسی کو بولنے کا موقع نہ ملنے پر اپوزیشن نے احتجاج شروع کر دیا۔ شدید نعرہ بازی میں اسپیکر کی ہدایات کو اپوزیشن نظرانداز کرتی رہی جس پر اسپیکر نے اجلاس جمعہ صبح 11 بجے تک  ملتوی کر دیا۔ اپوزیشن نے ایوان میں احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ 

متعلقہ خبریں