جی ٹی وی نیٹ ورک
انٹرٹینمنٹ

فلم انڈسٹری کے سینئر اداکار حبیب الرحمٰن کی تیسری برسی

حبیب الرحمٰن نے نا صرف اردو بلکہ پنجابی فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے۔
اداکار حبیب الرحمٰن کا شمار فلمی دنیا کے چند تعلیم یافتہ فنکاروں میں ہوتا تھا۔ انھوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے انگلش بعد اردو اور فارسی میں ایم اے کیا۔ وہ ایریگیشن اور پھر سول ایوی ایشن میں بھی ملازم رہے۔ وہ حادثاتی طور پر فلم انڈسٹری میں آئے لیکن انہیں بہت جلد کامیابی ملی تو انہوں نے اسے مستقل پروفیشن بنالیا۔
1956 میں حبیب نے فلم’’لخت جگر‘‘میں مختصر کرادار سے اپنی کریئر کا آغاز کیا۔ اور انہیں پہلے ہی سین میں ملکہ ترنم نور جہاں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ اس کے بعد انہیں نذیر اجمیری کی فلم ’’شہرت‘‘ میں کاسٹ کرلیا گیا۔ ان کی اہم فلموں میں آدمی، گمراہ، کالاپانی، ایاز، ماں کے آنسو، اولاد، غزالہ، وقت، دیوداس، سازش، شکریہ، آخری داؤ اور پردیس شامل ہیں۔
حبیب نے بہت سی پنجابی فلموں میں بھی کام کیا۔ ان فلموں میں موج میلہ، بابل دا ویہڑہ، میلہ دو دن دا، لنگوٹیا، بازی جت لئی، رنگو جٹ، ات خدا داویر، پیار نہ منے ہار، چن چودھویں دا، ٹیکسی ڈرائیور، خلیفہ، دومٹیاراں، مکھڑا چن ورگا اور چن شیر قابل ذکر ہیں ۔ انہوں نے دو سندھی فلمیں پروڈیوس اور ڈائریکٹ بھی کیں۔

متعلقہ خبریں